انوارالعلوم (جلد 23) — Page 187
انوار العلوم جلد 23 187 تعلق باللہ اور اُسے مارتے رہتے تھے۔جب وہ بہت ہی تنگ آجاتا تو اُن سے پیچھا چھڑانے کے لئے کہتا کہ تمہیں کچھ پتہ بھی ہے آج فلاں رئیس کے ہاں ولیمہ کی دعوت ہے۔یہ سنتے ہی بچے اُس طرف دوڑ پڑتے اور اسے چھوڑ دیتے۔اُن کے جانے کے بعد اس کے دل میں خیال آتا کہ شاید وہاں سچ مچ دعوت ہو اور یہ لڑکے کھا آئیں اور میں محروم رہ جاؤں۔اس خیال کے آنے پر وہ خود بھی اُسی طرف بھاگ پڑتا۔ابھی وہ نصف راستہ میں ہی ہو تا کہ لڑکے ناکام واپس آرہے ہوتے اور وہ غصہ میں اُسے پھر پکڑ لیتے اور خوب مارتے۔جب وہ بہت ہی تنگ آجاتا تو پھر اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے چاہتا کہ انہیں کوئی دھوکا دے۔چنانچہ وہ اُن سے کہتا کہ اصل میں میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا۔دعوت اُس رئیس کے ہاں نہیں تھی بلکہ فلاں رئیس کے ہاں تھی۔یہ سن کر لڑکے اُس دوسرے رئیس کے مکان کی طرف دوڑ پڑتے۔مگر اُن کے جانے کے بعد پھر اُس کے دل میں شبہ پیدا ہو تا کہ گو میں نے دھوکا دیا ہے مگر شاید اُس رئیس کے ہاں دعوت ہی ہو۔اس خیال کے آنے پر وہ خود بھی اُسی طرف دوڑ پڑتا اور خود بھی دھوکا کھا جاتا۔تو بسا اوقات بناوٹ سے بھی یقین پیدا ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی نماز میں رونے والی شکل بنائے تو آہستہ آہستہ اُسے رونا آجاتا ہے۔پس ذکر الہی تصنع والی محبت کا مقام ہے۔اصل میں اس کا دماغ خدا کو سُبحان مانتا ہے۔اِس کا دماغ خدا کو ستار اور غفار مانتا ہے۔اس کا اپنا جوڑ خدا تعالیٰ سے نہیں ہو تا لیکن جب یہ کہنا شروع کرتا ہے کہ یاستار یا غفار تو محبت الہی کا کوئی نہ کوئی چھینٹا اس پر بھی آپڑتا ہے۔جیسے کیچڑ اچھالا جائے تو کچھ کیچڑ اپنے اوپر بھی آپڑتا ہے یا شکر کی بوری بھرتے ہیں تو شکر کے چند دانے بوری بھرنے والے کے منہ میں بھی چلے جاتے ہیں۔غرض اسی طرح ہوتے ہوتے یہ مصنوعی محبت حقیقی محبت کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اِس آیت میں اشارہ فرماتا ہے کہ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرُكُمْ 84 تم میر اذکر کیا کرو گے تو ہوتے ہوتے ایسا مقام تمہیں حاصل ہو جائے گا کہ میں تمہیں یاد کرنے لگ جاؤں گا۔