انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 186

انوار العلوم جلد 23 186 تعلق باللہ اب میں بتاتا ہوں کہ محبت الہی پیدا کرنے کے لئے کن ذرائع کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔سو یا درکھنا چاہیے کہ اوّل صفات الہی کا ورد کرنے سے، جسے ذکر کہتے ہیں محبت پیدا ہوتی ہے یعنی سُبْحَانَ اللهِ - اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اللهُ اَكْبَرُ اور اِسی طرح يَا حَيُّ يَا قَيَوْمَ يَا سَتَارُ يَا غَفَّارُ وغيره وغیرہ۔ننانوے اسمائے الہیہ عام طور پر قرار دیئے جاتے ہیں۔بعض نے سو یا ایک سو ایک نام بھی لکھے ہیں مگر ہیں وہ بہت زیادہ۔بہر حال صفات الہیہ کے ذکر کرنے سے محبت الہیہ پیدا ہوتی ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ یہ سب سے پہلا درجہ ہے اس لئے کہ یہ تکلف کا درجہ ہے۔ہم کہتے ہیں سُبْحَانَ اللهِ۔ہم کہتے ہیں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ۔ہم کہتے ہیں اللهُ أَكْبَرُ۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا نام لیتے اور اُس کی صفات کا بار بار ذکر کرتے ہیں لیکن نام لینے سے یقین اور ایمان میں ترقی نہیں ہوتی۔ہم ایک مضمون تو اپنے سامنے لاتے ہیں مگر یہ کہ ہمارا قلب بھی اس مضمون کو تسلیم کر لیتا ہے یا نہیں یہ دوسری بات ہے۔ہم ایمان لے آئے خدا کی باتوں پر۔ہم ایمان لے آئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں پر اور ہم نے کہا خدا بڑا غفار ہے۔خدا بڑا ستار ہے یا خدا بڑی شان کا مالک ہے۔یہ ہمارے دماغ کی تسلی کا تو ثبوت ہے لیکن ہمارے دل کی تسلی کا ثبوت نہیں۔ہم جب سبحان اللہ کہتے ہیں یا الْحَمْدُ لِلهِ کہتے ہیں یا ستار اور غفار کہتے ہیں تو ایک عقلی چیز اپنے سامنے لاتے ہیں اور عقلی چیز کالازمی نتیجہ محبت نہیں ہوتی۔مثلاً ہم شیر کو مانتے ہیں مگر شیر کے ماننے سے محبت پیدا نہیں ہو جاتی۔اسی طرح ہم انگلینڈ اور امریکہ کا بار بار ذکر سنتے ہیں تو انگلینڈ اور امریکہ سے محبت نہیں کرنے لگ جاتے۔اسی لئے اس کو ذکر کہتے ہیں یعنی یہ تکلف اور بناوٹ کی محبت ہے۔جیسے اقلیدس والا کہتا ہے کہ فرض کرو یہ لکیر فلاں لکیر کے برابر ہے۔اِس طرح وہ فرض سے شروع کرتا ہے اور سچائی کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ایک شخص مصنوعی طور پر رونا شروع کرتا ہے تو آہستہ آہستہ سچ مچ رونے لگ جاتا ہے۔کئی مائیں اپنے بچوں کو ڈرانے لگتی ہیں تو بعد میں وہ خود بھی ڈرنے لگ جاتی ہیں۔عربوں میں ایک قصہ مشہور ہے کہ کوئی لڑکا تھا جسے باقی لڑکے سخت تنگ کرتے