انوارالعلوم (جلد 23) — Page 9
انوار العلوم جلد 23 9 خدام کو نصائح اس لئے ہمیں بھی پتہ نہیں کہ آئندہ ہمارے ساتھ کیا ہو گا۔مکہ کے متعلق بھی بہت پیشگوئیاں موجود تھیں بلکہ ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے آپ کو مبعوث کیا گیا تھا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے بعد بھی مدینہ میں ہی رہے مکہ واپس نہیں گئے۔قادیان مکہ سے بڑھ کر نہیں۔جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں اگر چہ ہم بھی اُمید رکھتے ہیں کہ قادیان ہمیں واپس ملے گا اور ایک مومن کو یہی امید رکھنی چاہئے کہ ہمیں واپس ملے گا اور وہیں ہمارا مر کز ہو گا لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ عملاً ہمارا مرکز وہی ہو گا جہاں ہمیں خدا تعالیٰ رکھنا چاہتا ہے۔پس ہمیں اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے کاموں کو وسیع کرنا چاہیئے اور اس بات کو نظر انداز کر کے کہ ہم نے قادیان واپس جانا ہے اپنا کام کرتے چلے جانا چاہئے۔بلکہ میں تو کہوں گا کہ اگر ہمیں تار بھی آجائے کہ آؤ اور قادیان میں بس جاؤ تو بھی تمہیں شام تک کام کرتے چلے جانا چاہئے تا یہ پتہ لگے کہ ہمیں کام سے غرض ہے۔ہمیں قادیان سے کوئی غرض نہیں، ہمیں ربوہ سے کوئی غرض نہیں۔اگر ہمیں خدا تعالیٰ لے جائے ہم وہاں چلے جائیں گے ورنہ نہیں۔ہم خدا تعالیٰ کے نوکر ہیں کسی جگہ کے نوکر نہیں۔اگر ہم کسی جگہ سے محبت کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ خد اتعالیٰ نے اُسے عزت دی ہے۔پس مومن کو اپنے کاموں میں شست نہیں ہونا چاہئے۔پھر نوجوانوں کی عمر تو کام کی عمر ہے انہیں اپنے کاموں میں بہت چست رہنا چاہئے “۔الفضل ربوہ۔فضل عمر نمبر 1966ء)