انوارالعلوم (جلد 23) — Page 110
انوار العلوم جلد 23 110 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور۔۔۔۔رسید موجود ہے کہ فرقان فورس نے جو ہتھیار اور در دیاں وغیرہ حاصل کیں وہ سب کی سب واپس دے دی گئیں اور کوئی چیز بھی ان کے پاس باقی نہیں رہی۔ایسے الزام لگانے والوں کو علم ہی نہیں کہ فوج کا ایک خاص نظام ہوتا ہے۔اس میں ہر چیز کا ریکارڈ اور حساب ہوتا ہے وہ کوئی احراریوں کا لیا ہوا چندہ نہیں ہوتا کہ جس کے پاس آیا اس کی جیب میں چلا گیا۔(2) حکومت کا جو ملازم کسی الزام میں ملوث ہو اسے احمدی مشہور کر دیا جاتا ہے۔حالانکہ اس کا احمدیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔(3) کہا جاتا ہے کہ احمدی غیر احمدی لڑکوں کو بھگا کر ربوہ لے آتے ہیں۔یہ الزام بھی صریحاً جھوٹ ہے۔چنانچہ حال ہی میں جب ایک اسی قسم کا الزام لگایا گیا تو پولیس نے اس کی تحقیقات کی اور اس نے اسے بالکل بے بنیاد پایا۔(4) احمدیت سے برگشتہ ہونے کی خبریں مشہور کر دی جاتی ہیں۔حالانکہ ان میں سے اکثر غلط ہوتی ہیں چنانچہ جن لوگوں کے متعلق ایسی خبریں شائع کی گئیں ان میں سے اکثر کو تو میں اس وقت بھی اپنے سامنے بیٹھا ہوا دیکھ رہا ہوں۔بھلا ظلم و تشدد اور جبر کے ساتھ بھی سچائی کسی کے دل سے نکلا کرتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس فتنے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت ثابت قدم رہی ہے۔چند ایک کمزور لوگوں نے اگر تشدد اور ظلم سے ڈر کر کمزوری دکھائی بھی تو بہت جلد اپنی حرکت پر وہ نادم ہوئے اور واپس آگئے اور اس قسم کے کمزور لوگ تو ہر جماعت میں ہوتے ہی ہیں۔(5) کہا جاتا ہے کہ ہم نے چونکہ پرانی کتابوں میں سے ایسے حوالوں کی طرف مسلمانوں کو توجہ دلائی ہے جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر انبیاء کی ہتک کی گئی ہے۔لہذا ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی۔حالانکہ اگر ہم نے صرف ان حوالوں کا ذکر کیا اور وہ قابل ضبط ہے تو وہ کتابیں کیوں نہیں قابل ضبط سمجھی جاتیں جن میں یہ ہتک کی گئی ہے۔کیا صرف اس لئے کہ وہ باتیں لکھنے والے وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں میں چوٹی کے عالم اور بزرگ سمجھے جاتے ہیں۔