انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 77

انوار العلوم جلد 23 77 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور۔۔۔۔۔سکے۔جماعتوں کی طرف سے جو اطلاعیں آئیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مخالفوں نے بھی مانگ مانگ کر یہ پرچہ پڑھا ہے۔ان میں سے متعد د نے بعد میں اِس خیال کا اظہار کیا کہ پہلے ہم احمدیت کو ایک خلاف اسلام تحریک سمجھتے تھے مگر اس نمبر کو پڑھنے سے معلوم ہوا کہ احمدی اسلام کے یا قرآن کے منکر نہیں ہیں بلکہ دوسرے مسلمانوں سے ان کا اختلاف محض تاویل کا اختلاف ہے۔متعدد جماعتوں نے خاتم النبیین نمبر کے متعلق لکھا کہ اس کی اشاعت کے بعد مخالفت کی رو بدل گئی۔پس الفضل کی اشاعت کو بڑھانے کی کوشش کرو۔سالہا سال سے اس کی اشاعت 20 اور 25 کے درمیان ہی گھوم رہی ہے حالانکہ جماعت پھیل رہی ہے۔اس میں شک نہیں کہ روزانہ اخبار ہونے کی وجہ سے اس کا چندہ زیادہ ہے مگر کمزور جماعتیں مل کر خرید سکتی ہیں۔اسی طرح اگر افراد بھی اکیلے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو دو دو، تین تین، چار چار مل کر خرید سکتے ہیں۔پس میں احباب کو تحریک کرتا ہوں کہ الفضل کی اشاعت کو بڑھانے اور ترقی دینے کی کوشش کرو۔اسی طرح انگریزی کا رسالہ ریویو ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے زمانہ کی جماعت کے لحاظ سے اس کے کم از کم دس ہزار خریدار ہونے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی اور موجودہ تعداد کے لحاظ سے تو اب اس کے لاکھوں تک خریدار ہونے چاہئیں لیکن اگر یہ نہ بھی ہو تو کم از کم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کو تو پورا کرنے کی کوشش کرو۔باہر سے جو خطوط آتے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بیرونی ممالک میں لوگ اس سے بہت متاثر ہوتے ہیں اور فائدہ اُٹھاتے ہیں۔اسی طرح خدام اور لجنہ کے رسالوں کی اشاعت بڑھانے کی بھی میں تحریک کرتا ہوں۔لجنہ کو شکایت ہے کہ اس کے رسالہ سے عور تیں پورا تعاون نہیں کرتیں۔مگر مجھے اس پر تعجب ہے کہ عورتیں اپنے رسالہ کی پرورش نہ کریں کیونکہ اگر انہیں یقین ہو کہ یہ چیز اپنی ہے تو پھر ان سے یہ اُمید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس کی پرورش اور نگرانی نہ کریں اور خدام کے رسالہ کے متعلق تو مجھے کچھ کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔ان کی جوانی کا زمانہ ہے ہمت اور طاقت کے