انوارالعلوم (جلد 23) — Page 579
انوار العلوم جلد 23 579 اپنی روایات زندہ رکھو اور مستقل مائو تجویز کرو سے ہٹانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ہم نے ایک عمارت پر مزدوروں کو کام کرتے دیکھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آگ لگی ہوئی ہے اور یہ لوگ اُسے بجھا رہے ہیں۔مزدور بڑی تیزی سے لوہا اور لکڑی لے جارہے تھے لیکن یہاں مزدور اپنی سستی کی وجہ سے اس کام کو گراں کر دیتے ہیں۔میں تو اس کا نقشہ اس طرح کھینچا کرتا ہوں کہ اگر کوئی مزدور کوئی چیز لینے جاتا ہے تو وہ اس طرح ٹوکری اُٹھاتا ہے جیسے کسی کی کمر ٹوٹی ہوئی ہو ، وہ ہائے کہہ کر ٹوکری اُٹھاتا ہے اور پھر رینگتے رینگتے معمار تک پہنچتا ہے۔اگر کوئی مزدور اینٹ اُٹھاتا ہے تو پہلے بھوں بھوں کرتا ہے۔پھر دس گیارہ اینٹیں اکٹھی کرتا ہے۔پھر آرام کرتا اور ستاتا ہے پھر اُٹھاتا ہے اور جوں کی طرح چلتا ہے اور دس بارہ منٹ میں مستری تک پہنچتا ہے۔پھر مستری بھی اسی طرح کرتے ہیں۔لیکن ایک یوروپین اتنے ہی عرصہ میں دس دفعه مستری تک چلا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مالک مزدور کو بہت زیادہ مزدوری دے دیتے ہیں۔اسی طرح زمیندار ہیں۔ہمارے ہاں جو پیداوار ہوتی ہے میں نے اُس کا یورپ کی پیداوار سے مقابلہ کیا ہے۔ہمارے ملک کی پیداوار میں اور یورپ کی پیداوار میں زیادہ فرق نہیں لیکن وہ مزدور کو دس روپے روزانہ دیتے ہیں اور ہمارے ہاں مزدور کو زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ روپیہ روزانہ ملتا ہے۔گویا ایک یوروپین مز دور ہمارے مزدور سے چھ گنے سے بھی زیادہ کما لیتا ہے لیکن اتنی زیادہ اُجرت دے کر بھی اُن ممالک میں ہمارے ملک سے غلہ زیادہ ستا بکتا ہے۔ماہرین زراعت سے میں نے اس کے متعلق گفتگو کی ہے کہ ان ممالک کی پیداوار ہمارے ملک کی پیداوار سے ڈیوڑھی ہے لیکن وہ اپنے مزدور کو دس روپے روزانہ دیتے ہیں اور ہم مزدور کو سواروپیہ یاڈیڑھ روپیہ دیتے ہیں اتنا فرق کیوں ہے؟ لیکن ان میں سے اکثر مجھے یہ معمہ نہیں سمجھا سکے۔اس کی اصل وجه در حقیقت یہی ہے کہ وہاں مزدور زیادہ کام کرتا ہے۔اگر یہاں ہم سو ایکڑ پر دس مزدور رکھنے پر مجبور ہیں تو وہاں ایک مزدور ہی کام دے جاتا ہے۔اس لئے ہمارے ملک میں تین چار گنا تنخواہ زیادہ لینے کے باوجود وہ ہمارے ملک کے مزدور سے سستا رہتا ہے۔یہ