انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 578

انوار العلوم جلد 23 578 اپنی روایات زندہ رکھو اور مستقل مائو تجویز کرو لگا دیا جاتا ہے۔کتابوں اور کا پہیوں پر اس کی مہریں لگا دی جاتی ہیں۔اس سے طالب علم کو وہ باتیں یاد آتی رہتی ہیں اور وہ انہیں ہر وقت اپنے سامنے رکھتا ہے۔پروفیسر بھی اس کا خیال رکھتے ہیں اور طالب علموں کا بھی کام ہوتا ہے کہ نہ صرف وہ خود انہیں اپنے سامنے رکھیں بلکہ اپنے ساتھیوں میں بھی ان اخلاق کے پیدا کرنے کی تحریک کرتے رہیں۔پہلے وہ اخلاق ایک مخصوص طبقہ میں ہوتے ہیں پھر آہستہ آہستہ اس سے ایک خاندان بن جاتا ہے۔پس تم بھی اپنا ایک ماٹو بناؤ۔شریعت کے بعض ایسے احکام کو لے لیا جائے جن کے نتیجہ میں بعض خاص قسم کے اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔یا بعض نقائص مد نظر رکھ لو اور انہیں دُور کرنا اپنا مقصد بنالو۔مثلاً ہمارے ملک میں محنت کی عادت نہیں جس کی وجہ سے ہمارے سارے کام خراب ہو جاتے ہیں۔تم اپنے ایک صناع کے پاس جاؤ اور اُسے ایک چیز بنانے کو کہو تو وہ مثلاً اُسے آٹھ آنے میں بنائے گالیکن ایک یوروپین کاریگر کے پاس جاؤ تو وہ وہی چیز ایک آنہ میں بنا دے گا۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے محنت کی عادت ڈال کر اپنے ہاتھ کو تیز بنالیا ہے اس لئے اُن کا مز دور جلدی کام کر لیتا ہے اور ہمارا مز دور دیر میں کام کرتا ہے۔میں جب انگلینڈ گیا تو میرے ساتھ حافظ روشن علی صاحب بھی تھے۔حافظ صاحب کی طبیعت میں مذاق تھا۔ایک دن وہ سنجیدگی سے مجھے کہنے لگے کہ کیا آپ نے یہاں کوئی آدمی چلتے بھی دیکھا ہے؟ اب بظاہر اس کا جواب یہی ہو سکتا تھا کہ چلتے تو سارے ہی ہیں۔یہاں کے رہنے والوں کے متعلق یہ سوال آپ کو کیوں پید ا ہوا لیکن میں اُن کا مطلب سمجھ گیا اور میں نے کہا کہ واقع میں میں نے یہاں کوئی آدمی چلتے نہیں دیکھا۔حافظ صاحب ہنس پڑے اور کہنے لگے میں نے یہاں ہر ایک آدمی کو دوڑتے دیکھا ہے۔اگر چہ وہ بھاگتے تو نہیں لیکن جب وہ چلتے ہیں تو ان کے پاؤں ہم سے تیز پڑتے ہیں۔ہمارے ہاں اگر کوئی رستہ سے گزرتا ہے اور وہاں بھیڑ ہوتی ہے تو کہتا ہے "رستہ چھڑو اسیں اگے لنگھنا اے"۔لیکن ان میں سے ہر ایک گزرتا جاتا ہے اور کسی کو اپنے راستہ