انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 577

انوار العلوم جلد 23 577 اپنی روایات زندہ رکھو اور مستقل مائو تجویز کرو ہندوستان میں صرف علی گڑھ کالج تھا جس نے اپنی روایات کو قائم رکھنے کی بنیاد ڈالی۔علی گڑھ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلباء ہمیشہ دوسروں سے ممتاز رہے ہیں اور اُنہوں نے بڑی وسیع الحوصلگی دکھائی ہے اور اچھے کام کئے ہیں۔اسی طرح آکسفورڈ اور کیمبرج کے فارغ التحصیل طالب علم بھی اپنی ٹریڈیشنز اور روایات کو قائم رکھتے ہیں۔یورپ میں ہر کالج نے اپنا اپنا مالو بنایا ہوا ہے۔یہاں بھی کالج کو اپنا کوئی نہ کوئی ماٹو ، مطمح نظر اور مقصد قرار دینا چاہئے اور اُسے ہر وقت سامنے رکھنا چاہئے۔مثلاً سچائی اور قربانی ہے۔اگر یہ ماٹو بنا دیا جائے اور کوشش کی جائے کہ کالج کی سٹوڈنٹس کے اندر یہ اخلاق نمایاں طور پر پیدا ہوں تو اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ جہاں بھی لڑکی جائے گی یہ ماٹو اس کے سامنے آجائے گا اور وہ اس کو پھیلانے کی پوری کوشش کرے گی۔پھر ماٹو مقرر کرنے کے بعد کالجوں کے منتظمین کتابوں اور کاپیوں پر اس کی مُہریں لگا دیتے ہیں۔قمیصوں پر گلے کے قریب ویسے نشان لگا دیتے ہیں۔اس طرح آہستہ آہستہ کالج سے نکل کر ایک نسل تیار ہوتی چلی جاتی ہے۔یہ پہلے سٹوڈنٹس ہوتے ہیں پھر اُن کی اولاد ہوتی ہے، پھر اُن کے پوتے ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ آگے چلتا چلا جاتا ہے اور انہیں یگانگت اور وحدانیت کا احساس ہوتا جاتا ہے۔جس طرح خاندان چلتا ہے اسی طرح اس خاندان میں ایک ریت چلتی چلی جاتی ہے مثلاً آکسفورڈ کا ایک فارغ التحصیل طالب علم جب دوسرے شخص کے کپڑے پر آکسفورڈ کا نشان دیکھے گا تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑے گا اور خوشی سے کہے گا اچھا! تم آکسفورڈ میں پڑھتے رہے ہو۔چاہے وہ فرانس کا ہو، جرمنی کا ہو یا کسی اور ملک کا جب بھی وہ آکسفورڈ کے دوسرے طالب علم کو دیکھے گا وہ اس کی طرف بڑھے گا اور اُسے تپاک سے ملے گا۔اسی طرح کیمبرج یونیورسٹی کے طلباء کا حال ہے۔پس تمہیں بھی اپنی ٹریڈیشنز اور روایات قائم کرنے کی کوشش کرنی اپنا ماٹو بناؤ چاہئے۔تم بھی اپنا ماٹو بناؤ۔قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ غور کر کے دو تین اخلاق کو لے لیا جاتا ہے اور انہیں ہر چیز پر لکھ لیا جاتا ہے۔کمروں اور ہال میں اُسے لکھ کر