انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 572

انوار العلوم جلد 23 572 اپنی روایات زندہ رکھو اور مستقل مائو تجویز کرو جائے اور وہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں تو گو انہیں ایک قوم کہا جائے گا لیکن ایسی قوم کی کوئی ٹریڈیشن یا روایت نہیں ہوتی کہ آئندہ آنے والے ان پر فخر کریں۔ا۔بات کہ فلاں قوم کا مورث اعلیٰ ڈاکو تھا، اس نے فلاں کی گردن کاٹ لی تھی، فلاں کو اس نے لُوٹ لیا تھا، یہ ایسی بات نہیں جن پر اخلاق کی بنیاد رکھی جائے۔لیکن مذہب ہمیشہ اچھوں سے چلتا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے آدمی ڈاکہ مارنے والے، فریب کرنے والے ، ظلم کرنے والے، دوسروں کے اموال کھانے والے اور دغا باز نہیں ہوتے۔وہ عدل و انصاف اور سچائی کو پھیلانے والے ہوتے ہیں۔پس جہاں مذہب کے اور فوائد بھی ہیں وہاں ایک مذہب کا ایک فائدہ فائدہ یہ بھی ہے کہ اُس کی طرف منسوب ہونے والا بجائے اپنے باپ دادوں سے ٹریڈیشن لینے کے مذہب سے ٹریڈیشن لے لیتا ہے کیونکہ اس کے باپ دادوں کی روایات ایسی نہیں ہوتیں کہ وہ اچھے اخلاق پیدا کرنے کا موجب ہو سکیں۔اس بارہ میں مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل جب گھوڑے سے گرے تو آپ کی صحت کو سخت دھکا لگا اور آپ بیہوش ہو گئے۔لوگوں کو پتہ لگا تو وہ آپ کی خبر لینے آجاتے اور پھر سوال بھی کرتے۔بیہوشی میں اس قسم کے سوالات کرنے مُضر ہوتے ہیں اس لئے ڈاکٹروں نے منع کیا ہوا تھا کہ آپ کے کمرہ میں کوئی نہ جائے۔چنانچہ میں نے آپ کے کمرہ کے دروازے بند کر دیئے اور نیک محمد خاں صاحب افغان کو مقرر کیا کہ وہ کسی کو اندر نہ جانے دیں۔نیک محمد خاں احمدیت میں نئے نئے آئے تھے اور افغانستان کے اچھے شریف خاندان میں سے تھے۔اُن کا باپ ایک صوبہ کا گورنر تھا۔جب احمدیت قبول کر لینے کی وجہ سے اُن کی مخالفت شدت اختیار کر گئی اور حالات بگڑ گئے تو وہ قادیان آگئے۔اُس وقت اُن کی عمر 17،16 سال کی تھی۔اس کے بعد وہ قادیان میں ہی رہے۔نیک محمد خاں صاحب بہت نچست اور ہو شیار تھے۔اس لئے میں نے انہیں پہرہ پر مقرر کیا اور ہدایت کی کہ وہ کسی شخص کو اندر نہ جانے دیں اور انہیں خاص طور پر بتایا کہ دیکھو بعض دفعہ انسان سے غلطی ہو جاتی ہے کوئی بڑا آدمی آجاتا ہے تو خیال آتا ہے کہ