انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 47

انوار العلوم جلد 23 47 اخبار ”پیغام صلح کے اس بیان کی تردید کہ مبالعین نے۔پس جو بات نبوت کی اس تعریف کے خلاف ہو گی، جو 1901ء کے بعد آپ نے فرمائی وہ منسوخ ہو گئی اور جو خلاف نہیں ہوگی وہ منسوخ نہیں ہو گی۔حوالہ جات منسوخ نہیں صرف پہلی تعریف نبوت منسوخ ہے ورنہ ان حوالوں کا مضمون قائم ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں نے لکھا ہے کہ حضرت صاحب کا مقام مجددیت اور نبوت کے درمیان ہے۔میں نے اپنا خط نکال کر پھر پڑھا ہے اس میں تو یہ کہیں نہیں لکھا کہ حضرت صاحب کا مقام مجددیت اور نبوت کے درمیان ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بے شک لکھا ہے کہ امتی نبی کا نام ایک نیا نام ہے جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں ملا اور یہی ہم کہتے ہیں ، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ۔ہالینڈ میں مسجد ہم بنارہے ہیں اور نقشہ بن رہا ہے۔کل ہی اس کا پلین (PLAN) ہالینڈ کے ایک آرمیچر (ARCHITECTURE) کی طرف سے آیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کسی نے آپ کو یہ غلط رپورٹ دی ہے کہ ہم مسجد نہیں بنار ہے۔والسلام خداحافظ خاکسار۔مرزا محمود احمد “ 66 اس خط سے ظاہر ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو امتی نبی تسلیم کرتے ہیں لیکن امتی نبی کوئی ایسا درجہ نہیں جو مجد دیت اور نبوت کے درمیان ہو بلکہ (بقیہ حاشیہ :-) اس کے بعض فقرات یہ ہیں: وو یہ تعریفوں کا اختلاف ہی تھا جس کی وجہ سے 1901ء سے پہلے آپ اپنی نبوت کو جزئی اور ناقص قرار دیتے رہے“ 1 ”خدا تعالیٰ نے کسی پہلے حکم کو بدلا نہیں اور آپ جزوی نبی سے پورے نبی نہیں بنائے گئے۔“ 2 پس اس تعریف نے پہلی تعریف کو بدلا دیا اور 1901ء سے پہلے جس قدر تحریرات سے نبی ہونے کا انکار پایا جاتا تھا ان کے معنے بھی بدل دیئے اور اس کے صرف یہ معنے رہ گئے کہ آپ نے شریعتِ جدیدہ 66 لانے یا براہ راست نبوت پانے سے انکار کیا ہے “۔3