انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 521

انوار العلوم جلد 23 521 تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کے جوابات استعمال کرتا ہے تو اس کی مراد یہی ہوتی ہے کہ آپ ان لوگوں کے جو بائی سلسلہ احمدیہ کو مانتے ہیں ”امیر “ ہیں۔لوگ اپنی عقیدت میں اپنے لیڈروں کے کئی نام رکھ لیتے ہیں۔بعض تو کلی طور پر غلط ہوتے ہیں، بعض جزوی طور پر صحیح ہوتے ہیں بعض کلی طور پر صحیح ہوتے ہیں اور کوئی معقول آدمی ان باتوں کے پیچھے نہیں پڑتا جب تک کہ ایسی بات کو ایمان کا جزو قرار دے کر اس کے لئے دلائل اور براہین نہ پیش کئے جائیں۔سابق مسلمانوں نے بھی بعض آئمہ کو ”امیر المومنین“ کے الفاظ سے یاد کیا ہے چنانچہ مولانا محمد زکریا شیخ اہلحدیث مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور اپنی کتاب (موسومه مقد مہ اوجز المسالک شرح موطا امام مالک) کے صفحہ 14 مطبوعہ یحیویہ سہارنپور 1348 ھ میں امام قطان اور یحیی بن معین سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”مَالِک اَمِيرَ الْمُؤْمِنِيْنَ فِي الْحَدِيْثِ“ یعنی امام مالک فن حدیث میں امیر المومنین ہیں۔اسی طرح حضرت سفیان ثوری کے متعلق حضرت حافظ ابن حجر عسقلانی، امام شعبہ اور امام ابن علقمہ اور امام ابن معین اور بہت سے علماء کی سند پر اپنی کتاب تہذیب التہذیب میں لکھتے ہیں: ”سُفْيَانِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحَدِيثِ“ یعنی حضرت سفیان ثوری فن حدیث میں امیر المومنین ہیں۔47 احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے سابق امیر مولانا محمد علی صاحب مرحوم کو بھی ان کے بعض اتباع ” امیر المومنین “ لکھتے ہیں۔پروفیسر الیاس برنی صاحب نے اپنی کتاب ”قادیانی مذہب“ مطبوعہ اشرف پرنٹنگ پریس لاہور بار ششم صفحہ 3 تمہید اوّل میں موجودہ نظام صاحب دکن کو ”امیر المومنین لکھا ہے۔مزید برآں بعض لوگ اس قسم کے نام رکھ لیتے ہیں جیسے ”ابو الا علی“ حالا نکہ الا علی “ اللہ تعالیٰ کا نام ہے۔“ 1: الحج : 79