انوارالعلوم (جلد 23) — Page 510
انوار العلوم جلد 23 510 تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کے جوابات (الف) حضرت مجدد الف ثانی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ کفر بر خلاف اصحاب شیعہ اثنا عشریہ ۔ 24 (ب) حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ 25 اسی طرح اہلسنت و الجماعت کے بریلوی فرقہ کے علماء مندرجہ ذیل فتویٰ علمائے دیوبند کے خلاف صادر کر چکے ہیں۔ (الف) حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی اور علمائے حرمین شریفین کے دستخطوں سے یہ فتویٰ شائع ہوا ہے: وَ بِالْجُمْلَةِ هُؤُلَاءِ الطَّوَائِفِ كُلُّهُمْ كُفَّارٌ مُرْتَدُّونَ خَارِجُونَ عَنِ الْإِسْلَامِ بِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ 20 یعنی یہ سب گروه (یعنی گنگوهیه ، تھانویہ، نانو تو یہ ، دیوبندیہ وغیرہ) مسلمانوں کے اجماع کی رو سے کفار مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور اس کتاب کے ٹائٹل پیج پر لکھا ہے: جس (رسالہ ہذا) میں مسلمانوں کو آفتاب کی طرح روشن کر دکھایا کہ طائفہ قادیانیہ ، گنگوھیہ ، تھانویہ ، نانو تو یہ و دیو بند یہ وامثالهم نے خدا اور رسول کی شان کو کیا کچھ گھٹایا علمائے حرمین شریفین نے نے باجماعِ امت ان سب کو زندیق و مُرتد فرمایا ان کو مولوی در کنار مسلمان جاننے یا ان کے پاس بیٹھنے ، ان سے بات کرنے زہر و حرام و تباہ کن اسلام بتلایا۔ (ب) پھر اسی کتاب میں مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی دیوبند ، مولوی اشرف علی صاحب تھانوی ، مولوی محمود الحسن صاحب و دیگر دیو بندی خیال کے علماء کی نسبت یہ فتویٰ درج ہے کہ : یہ قطعاً مرتد اور کافر ہیں اور ان کا ارتداد و کفر اشد درجہ تک پہنچ چکا ہے ایسا کہ جو ان مرتدوں اور کافروں کے ارتداد و کفر میں