انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 488

انوار العلوم جلد 23 488 نوجوانوں میں لیڈر شپ کی اہلیت کی اہمیت پر بدستور گامزن رہتی ہے لیکن اگر نوجوان ہی قومی کردار کے اعتبار سے معیار پر پورے نہ اُترتے ہوں تو پھر قوم کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔سو قوم کی آئندہ ترقی کا دارو مدار نوجوانوں پر ہوتا ہے۔جس فوج کا ہر سپاہی سمجھ لے کہ شاید آگے چل کر میں ہی کمانڈر انچیف بن جاؤں تو وہ یقیناً اس احساس کے تحت اپنے عمل و کردار کو ایسے طریق پر ڈھالے گا جو بالآخر اسے اس عہدے کا اہل بنا دے۔یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس فوج کے تمام سپاہیوں میں کمانڈر انچیف بننے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی لیکن اگر فوج کا ہر سپاہی یہ سمجھ بیٹھے کہ میں تو کمانڈر انچیف نہیں بن سکتا تو وہ فوج گرتے گرتے اس حالت کو پہنچ جائے گی کہ اس میں ڈھونڈے بھی کوئی شخص ایسا نہ ملے گا کہ جو اس عہدے کی ذمہ داری سنبھال سکے۔پس جماعت کی ترقی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے ہر فرد میں یہ احساس پیدا ہو کہ بڑے سے بڑا کوئی عہدہ ایسا نہیں ہو سکتا جس کی ذمہ داریوں کو میں کماحقہ ادانہ کر سکوں۔جب تک ہر فرد اس احساس کے ماتحت آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرے اُس وقت تک قومی اعتبار سے وہ صلاحیت پیدا نہیں ہو سکتی جس کا پیدا ہونا تحفظ و بقاء اور ترقی کے لئے ضروری ہے۔پس تم میں سے ہر شخص کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وقت پڑنے پر وہ بڑے سے بڑا عہدہ سنبھالنے کا اہل ثابت ہو سکے۔کامل علم اور کامل عمل اس کوشش اور جدوجہد میں کامیاب ہونے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں۔علم کامل اور عمل کامل۔علم کامل اس بات کا مقتضی ہے کہ وہ اس جماعت یا مذہب یا سیاست کا بغور مطالعہ کرتا رہے جس سے وہ منسلک ہے۔اسی طرح عمل کامل کے لئے ضروری ہے کہ نظم و ضبط اور جماعتی پابندی کو لازم پکڑا جائے۔دوسرے اپنے اندر خیال آرائی اور بلند پروازی پیدا کی جائے۔کیونکہ جب تک انسان اس صفت سے متصف نہ ہو اس وقت تک آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں ہو سکتی۔