انوارالعلوم (جلد 23) — Page 481
انوار العلوم جلد 23 481 جو خاتم النبیین کا منکر ہے وہ یقیناً اسلام سے باہر ہے جس میں گالیاں دی جاتی ہیں ؟ جس میں ماتم کیا جاتا ہے ؟ جس میں کتوں کو جوتیاں مار کر اپنے ملک کا وزیر خارجہ قرار دیا جاتا ہے؟ کیا اگر صحابہ یہ نظارہ دیکھیں تو وہ خوش ہو کر ایک دوسرے سے کہیں گے کہ یہ ہیں ہمارے بچے پیرو؟ یہ وہی کام کر رہے ہیں جس کا کرنا ہم پسند کرتے تھے ؟ اگر ایسا نہیں بلکہ آپ کا دل گواہی دیتا ہے کہ نہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کام پسند کر سکتے تھے نہ صحابہ ان کاموں کا کرنا پسند کر سکتے تھے تو بتائیں کہ حرمت رسول کا دعویٰ کرنے والے اگر سچے ہیں تو یہ کام کیوں کرتے ہیں۔اے عزیزو! عقیدہ وہی ہوتا ہے جو ایک شخص بیان کرتا ہے، نہ وہ جو اس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔پس اچھی طرح سُن لو کہ بانی سلسلہ احمدیہ کا ایمان تھا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تھے اور قرآن کریم خاتم الکتب ہے۔آپ فرماتے ہیں:- میں مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں“۔1 اسی طرح فرماتے ہیں:۔نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو 2 پھر آگے لکھتے ہیں:۔آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مر تبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا