انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 436

انوار العلوم جلد 23 436 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اُن لوگوں کا ذکر ہے جو گالیاں دینے والے تھے۔چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:- انہوں نے گالیاں دیں اور میں نہیں جانتا کیوں دیں۔کیا ہم اُس دوست کی مخالفت کریں یا اُس سے کنارہ کریں“۔404 اس عبارت میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اُن دُشمنوں کا ذکر فرمایا ہے جو آپ کے محبوب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بد زبانی اور بد گوئی سے کام لیتے تھے اور حضور کو گندی گالی دینے سے اُن کا مقصود یہ تھا کہ مسلمانوں کو حضور کی محبت سے دور کر دیں مگر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں کہ ہم ان دشمنوں کی غلیظ گالیوں کے باعث اپنے محبوب سے کبھی کنارہ کش نہیں ہو سکتے۔یہ گالیاں دینے والے کون تھے ؟ اس کی تفصیل بھی اسی کتاب نجم الھدی کے صفحہ 12 پر پیش کردہ عبارت کے آگے تفصیل سے موجود ہے۔حضور عام مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:۔(الف) سو آپ لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ دین صلیبی اُونچا ہو گیا اور پادریوں نے ہمارے دین کی نسبت کوئی دقیقہ طعن کا اُٹھا نہیں رکھا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور بہتان لگائے اور دُشمنی کی۔۔۔۔۔اور تھوڑی مدت سے ایک لا کھ کتاب اُنہوں نے ایسی تالیف کی ہے جس میں ہمارے دین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بجز گالیوں اور بہتان اور تہمت کے اور کچھ نہیں اور ایسی پلیدی سے وہ تمام کتابیں پر ہیں کہ ہم ایک نظر بھی اُن کو دیکھ نہیں سکتے اور تم دیکھتے ہو کہ اُن کے فریب ایک سخت آندھی کی طرح چل رہے ہیں اور اُن کے دل حیا سے خالی ہیں اور تم مشاہدہ کرتے ہو کہ اُن کا وجود تمام مسلمانوں پر ایک موت کھڑی ہے اور کمبینہ طبع آدمی خس و خاشاک کی طرح اُن کی طرف کھینچے جارہے ہیں۔۔۔۔۔پھر ان کی اپنی عورتیں اسی غرض کے لئے شریفوں کے گھروں میں بھیجیں۔۔۔