انوارالعلوم (جلد 23) — Page 433
انوار العلوم جلد 23 433 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ ترک کر کے بدکاری کی طرف جاتا ہے اُس کو باوجودیکہ اُس کا ، نسب درست ہو۔صرف اعمال کی وجہ سے ابن الحرام، ولد الحرام کہتے ہیں۔اس کے خلاف جو نیکو کار ہوتے ہیں اُن کو ابن الحلال کہتے ہیں۔اندریں حالات امام کا اپنے مخالفین کو اولاد بغایا کہنا بجا اور درست ہے“ 400" 66 لیکن ہمیں افسوس ہے کہ مجلس احرار اور اُس کے ہمنواؤں کو جماعت احمدیہ کی مخالفت میں یہ عرب کا، ساری دُنیا کا محاورہ “ یاد نہ رہا اور اُنہوں نے ممبروں پر ، اسٹیج پر ، اخبارات میں ، رسائل میں، کتابوں میں غرضیکہ ہر جگہ پھر پھر کر یہ پروپیگنڈا جاری رکھا کہ نعوذ باللہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور جماعتِ احمدیہ کے نزدیک تمام غیر احمدی مسلمان نعوذ باللہ کنجریوں کی اولاد ہیں۔حالانکہ وہ یہ جانتے تھے کہ اُن کا یہ بیان کردہ ترجمہ جماعت احمدیہ کو مسلم نہیں اور نہ یہ مسلّم ہے کہ یہ عبارت غیر احمدی مسلمانوں کی نسبت ہے۔وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جن لوگوں کو وہ یہ عبارت سُنا سنا کر اور اس عبارت کا مخاطب بتا بتا کر اشتعال دلا رہے ہیں وہ اِس عبارت کی تحریر کے وقت (1893ء میں) پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔اس سے صاف طور پر ثابت ہے کہ اس اشتعال انگیزی اور اس کے نتیجہ میں فسادات کی تمام ذمہ داری خود اُن علماء پر ہے۔9- پھر شیعہ صاحبان کے مستند امام حضرت جعفر صادق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:۔مَنْ أَحَبَنَا كَانَ نُطْفَةَ الْعَبْدِ وَ مَنْ أَبْغَضَنَا كَانَ نُطْفَةً الشَّيْطَان“ 401 یعنی جو شخص ہم سے محبت رکھتا ہے وہ بندے کا نطفہ ہے۔مگر وہ جو ہم سے بغض رکھتا ہے وہ نطفہ شیطان ہے۔کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق اور حضرت امام با قر ا یسے جلیل القدر اماموں نے شیعوں کے علاوہ تمام مسلمانوں کو اولاد بغایا اور نطفہ شیطان قرار دیا تھا کیونکہ اس قسم کے الفاظ سے صرف اظہار ناراضگی مقصود ہوتا ہے اور اُن کی