انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 428

انوار العلوم جلد 23 428 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ 66 "مسلمانوں کی اولاد “ اور ”اسلام کے شرفاء کی ذریت“ قرار دیتا ہے اور اُن مشائخ کو جو آپ کی جماعت میں شامل نہیں ہوئے تھے ، اپنے پاکیزہ الفاظ میں یاد کرتا ہے۔ کیا ممکن ہے کہ وہ اس کتاب میں ان کو نَعُوذُ بِالله ”کنجریوں کی اولاد “ قرار دے؟ 5- ایک اور ثبوت اس امر کا کہ پیش کردہ الفاظ غیر احمدی مسلمانوں کی نسبت نہیں ہیں ، خود پیش کر دہ عبارت کا سیاق و سباق ہے جو درج ذیل ہے :- ” جب میں میں سال کی عمر کو پہنچا تبھی سے میرے دل میں یہ خواہش رہی کہ اسلام کی نصرت کروں اور آریوں اور عیسائیوں کے ساتھ مقابلہ کروں۔ چنانچہ اس غرض سے میں نے متعدد کتب تصنیف کیں جن میں سے ایک براہین احمدیہ ہے ۔۔۔۔۔ نیز اور بھی کتابیں ہیں جن میں سے سرمہ چشم آریہ، توضیح مرام، فتح اسلام، ازالہ اوہام ہیں۔ نیز ایک اور کتاب بھی جو میں نے انہی دنوں لکھی ہے۔ اس کا نام دافع الوساوس ( آئینہ کمالات اسلام) ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو دین اسلام کا حسن دیکھنا اور دشمنانِ اسلام کو لاجواب کرنا چاہتے ہیں یہ کتاب نہایت مفید ہے۔ یہ کتابیں ایسی ہیں کہ سب کے سب مسلمان ان کو محبت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف اور مطالب سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور میری تائید کرتے اور جو میری دعوت (یعنی دعوت اسلام) کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہاں وہ ذرية البغایا جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کر دی ہوئی ہے، وہ قبول نہیں کرتے “ 393 ظاہر ہے کہ اس عبارت میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنے مخصوص دعاوی کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ اپنے دعوئی سے پہلے میں سالہ عمر کی زندگی کا ذکر فرمایا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ براہین احمدیہ میں آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل رسول ہونا اور قرآن مجید کا کامل کتاب ہونا ثابت کیا ہے اور تمام مسلمان فی الواقع اب تک اس کے