انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 420

انوار العلوم جلد 23 420 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ یار ٹیشن ہوئی اور کشمیر میں لڑائی شروع ہوئی تو کشمیر کی جنگ میں حصہ جب پار احمدی جماعت ہی تھی جو کہ منظم طور پر اس جنگ میں شرکت کے لئے گئی اور انہوں نے تین سال تک برابر اس محاذ کو سنبھالے رکھا جو کہ کشمیر کا سخت ترین محاذ تھا۔یہاں تک کہ فوجی حکام کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ اس لڑائی کے لمبے عرصے میں احمدی فوج نے ایک انچ زمین بھی دُشمن کے ہاتھ میں نہیں جانے دی۔381 اُس وقت مولانا مودودی یہ اعلان کر رہے تھے کہ کشمیر کا جہاد نا جائز ہے۔382 ہم اُن کے فتویٰ سے متفق ہیں کہ یہ مذہبی جہاد نہ تھا مگر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی تو فرمایا ہے کہ جو اپنی جان اور مال کی حفاظت کے لئے لڑتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔پس یہ جنگ اسلام کی تعلیم کے مطابق منع نہ تھی بلکہ پسندیدہ تھی۔اور یہ احراری علماء احمدیوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کی کوشش کر رہے تھے اور احمدی فوج کی بدنامی کے لئے پورازور لگارہے تھے۔تقسیم پنجاب کے وقت مسلمانوں سے تعاون پر گزشتہ تقسیم پنجاب کے فسادات کے موقع پر جماعت احمدیہ نے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ جو تعاون کیا ہے اُس کے متعلق ہم مندرجہ ذیل شہادتیں اپنے حال کے مخالفین کی ہی پیش کرتے ہیں۔اخبار ”زمیندار“ 3 / اکتوبر 1947ء کے اداریہ میں لکھتا ہے :- اہے:- اس میں شک نہیں مرزائیوں نے مسلمانوں کی خدمت قابل شکر یہ طریقہ پر کی“۔20 ستمبر 1947ء کا اخبار زمیندار لکھتا ہے:۔قادیان میں اس وقت تقریباً ایک لاکھ پناہ گزین موجود ہیں“۔11 اکتوبر 1947ء کے اخبار زمیندار نے لکھا:۔کل صبح ہندوستانی فوج کے ایک بڑے افسر نے تین