انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 36

انوار العلوم جلد 23 36 احرار کو چیلنج بینک اکاؤنٹس سے ادا ہوئی اور آئندہ اس کی قسطیں بھی اسی طرح ادا ہوتی رہیں۔ہر شخص فوراً دیکھ سکتا ہے کہ یہ زمین گو کسی اور کے نام سے خریدی گئی مگر اس کی ابتدائی رقمیں بھی انجمن نے دیں اور پھر اس کی قسطیں بھی شروع سے لے کر آخر تک انجمن نے ہی دیں۔اسی طرح تحریک جدید کی جو زمین خریدی گئی گو وہ انجمن کے نام پر ہے لیکن بینکوں کے اکاؤنٹ شاہد ہیں کہ اس کی قیمت انجمن نے ادا نہیں کی۔اس کی قیمت تحریک جدید نے ادا کی اور پندرہ سال کی متواتر بینکوں کی شہادتیں اس بات پر ہیں کہ وہ زمین تحریک جدید کی ہے۔اسی طرح جو میری زمین ہے۔زمین خرید نے والی کمپنی اور انجمن کا ریکارڈ شاہد ہیں کہ اس کی قیمتیں میں نے دی ہیں۔اسی طرح بینک اکاؤنٹ گواہ ہے کہ اس کی قسطیں برابر میرے کھاتہ سے جاتی رہیں۔انجمن یا تحریک نے وہ ادا نہیں کیں اور اس کا انتظام میرے مینجر کرتے چلے آئے۔پس یہ ٹھیک ہے کہ انجمن کی بعض زمینیں میرے نام پر خریدی گئی ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ زمینیں گو میرے نام پر خریدی گئی ہیں لیکن انجمن کی اسٹیٹ میں شامل ہیں * اور انجمن کے کارکن اس پر قابض ہیں۔اسی طرح یہ بھی ٹھیک ہے کہ تحریک جدید کی زمین انجمن کے نام پر خریدی گئی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شروع دن سے اس زمین پر تحریک جدید کے کارکن کام کر رہے ہیں اور وہ تحریک جدید کے قبضہ میں ہے۔اسی طرح یہ بھی ٹھیک ہے کہ کچھ میری زمین انجمن کے یہاں یہ لطیفہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ان سندھ کی زمینوں کو بعض دفعہ ہمارے اخبارات میں اسٹیٹس لکھا جاتا ہے جس کے معنے انگریزی میں زمینداری کے ہیں یا ایک کو ٹھی اور اس کے ارد گرد کی زمینداری کے لیکن احرار جہلاء ہمیشہ اسی لفظ پر شور مچاتے رہے ہیں کہ احمدیوں نے ریاستیں قائم کر لی ہیں۔چنانچہ مذکورہ بالا مضمون میں بھی اسٹیٹ کا ترجمہ ریاست کیا گیا ہے اور لکھا ہے کہ مرزا محمود سب سے پہلے سندھ میں اپنی ریاستوں کی زمین فروخت کرنا چاہتے ہیں۔اس ملک کی کتنی بد قسمتی ہے جس کے علماء جہلاء ہوں یا دوسرے کو بد نام کرنے کے لئے جھوٹ بولنا جائز سمجھتے ہوں۔مرزا محمود احمد