انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 412

انوار العلوم جلد 23 412 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار اُلجھے ہوئے تھے اور جس کی دونوں مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں۔وہ شخص جو مذہبی دُنیا کے لئے تیئیس برس تک زلزلہ اور طوفان بنا رہا، جو شورِ قیامت ہو کر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا تھا۔خالی ہاتھ دُنیا سے اُٹھ گیا۔یہ تلخ موت، یہ زہر کا پیالہ موت جس نے مرنے والے کی ہستی نہ خاک پنہاں کی۔ہزاروں لاکھوں زمانوں پر۔تلخ ناکامیاں بن کر رہے گی۔اور قضاء کے حملہ نے ایک جیتی جان کے ساتھ جن آرزوؤں اور تمناؤں کا قتل عام کیا ہے۔صدائے ماتم مدتوں اس کی یاد گار تازہ رکھے گی۔مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اِس سے سبق حاصل نہ کیا جائے اور مٹانے کے لئے اسے امتدادِ زمانہ کے حوالہ کر کے صبر کر لیا جائے۔ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دُنیا میں انقلاب پید اہو ہمیشہ دُنیا میں نہیں آتے۔یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں تو دُنیا میں انقلاب کر کے دکھلا جاتے ہیں۔مرزا صاحب کی اِس رحلت نے اُن کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو، ہاں تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کر دیا ہے کہ اُن کا ایک بڑا شخص اُن سے جد اہو گیا اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو اُس کی ذات سے وابستہ تھی، خاتمہ ہو گیا۔اُن کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے، ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جائے