انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 35

انوار العلوم جلد 23 35 احرار کو چیلنج اُس وقت تک رجسٹر ڈ نہیں تھی اِس لئے اس کی ساری زمینیں صدر انجمن احمد یہ کے نام پر خریدی گئیں چونکہ وہ کمپنی جس نے زمین خریدی تھی وہ بھی رجسٹر ڈ نہیں تھی اس لئے اس کی تمام زمینیں بھی صدر انجمن احمدیہ کے نام پر خریدی گئیں۔اس وجہ سے لازماً میراحصہ بھی اور میرے بھائی کا حصہ بھی صدر انجمن احمدیہ کے نام پر خریدا گیا کیونکہ ہماری خرید براہ راست نہ تھی بلکہ اس کمپنی کے حصہ دار کی حیثیت سے تھی۔اسی دوران میں میں نے خود کچھ زمین براہ راست خریدی جس کے نتیجہ میں مجھے بھی اپنے آدمی وہاں رکھنے پڑے۔جب کبھی کسی نئی زمین کا پتہ لگتا تھا کہ وہ خریدی جاسکتی ہے اور انتظام کے لحاظ سے مفید ہے تو اسے خرید لیا جاتا تھا لیکن کبھی ایسا ہو تا تھا کہ صدر انجمن احمد یہ کا مختار نامه یا مختار موجود نہ ہوتا تھا تو میرا مختار میرے مختار نامہ پر زمین خرید لیتا تھا لیکن وہ ہوتی تھی صدر انجمن احمدیہ کی اور کبھی ایسا ہو تا تھا کہ کوئی زمین میں نے خریدنی ہوتی تھی لیکن میر امختار نامہ یا میر امختار موجود نہیں ہوتا تھا تو انجمن کا مختار اس زمین کو انجمن کے نام خرید لیتا تھا لیکن وہ ہوتی تھی میری۔اس کی موٹی علامت یہ ہوتی تھی کہ زمینوں کے حلقے تقسیم کر دیئے گئے تھے۔نبی سر روڈ کے پاس کی زمینیں صدر انجمن احمدیہ کی تھیں اور ٹاہلی اسٹیشن سے پاس کی زمینیں تحریک جدید کی تھیں اور ٹنڈو الہ یار کے علاقہ کی زمینوں میں تھوڑا سا حصہ میرا تھا۔باقی تحریک جدید کا تھا۔اس کے مقابلہ میں گنری اسٹیشن کے پاس کی زمین ان حصہ داروں کو ملی جو کہ صدر انجمن احمدیہ کے ساتھ زمین خرید نے والی کمپنی کے ممبر تھے۔جنہوں نے آگے جاکر اپنی زمینیں میرے اور میرے بھائی کے پاس فروخت کر دیں۔پس وہاں جو زمین خریدی جاتی تھی وہ میرے لئے خریدی جاتی تھی۔اسی طرح کنجے جی اسٹیشن کے پاس زمینیں سب سے پہلے میں نے ہی خریدی تھیں۔اس لئے وہاں اگر کوئی زمین نکلتی تھی تو میں ہی خرید تا تھا اور جس کی زمین ہوتی تھی وہ اس کے مینجروں کے سپر د ہو جاتی تھی اور شروع دن سے وہی اس پر کام کرتے تھے اور ان کے بینک اکاؤنٹ اس پر شاہد ہوتے تھے مثلاً انجمن کے نام پر جو انجمن کی زمین خریدی گئی اس کی قیمت یا انجمن کے ریزولیوشنوں میں درج ہے یا انجمن کے