انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 401

انوار العلوم جلد 23 401 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ پھر اسی صفحہ پر فرماتے ہیں کہ چونکہ مسلمانوں میں یہ عادت راسخ ہو گئی ہے اس لئے کسی مسلمان بادشاہ کو چاہئے کہ وہ ان امور کی طرف توجہ کرے اور اس کے لئے اُنہوں نے امیر افغانستان کو منتخب کر کے اُسے نصیحت کی کہ وہ ایسا کرے۔پھر فرماتے ہیں:۔”اسلام ہر گز یہ تعلیم نہیں دیتا کہ مسلمان راہزنوں اور ڈاکوؤں کی طرح بن جائیں اور جہاد کے بہانے سے اپنے نفس کی خواہشیں پوری کریں“۔354 پھر فرماتے ہیں:۔جہاد کا حکم بادشاہ کے بغیر نہیں۔اس لئے امیر صاحب افغانستان کو چاہئے کہ وہ علماء کو سمجھائیں ور نہ ہو سکتا ہے کہ علماء اس حکم کو دیکھ کر کہ امیر کے بغیر جہاد نہیں اور پھر یہ دیکھ کر کہ امیر صاحب جہاد کا اعلان نہیں کرتے اُن کو بھی دائرہ اسلام سے خارج کر دیں۔پس امیر صاحب کو اسلام کے حقوق کی حفاظت کے لئے اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے ایسا کرنا چاہئے۔355 پھر فرماتے ہیں:- ”مسئلہ جہاد کے متعلق جو غلط فہمی ہوئی ہے اُس کے ذمہ دار صرف مولوی نہیں بلکہ پادری بھی ہیں جنہوں نے حد سے زیادہ اس بات پر زور دیا کہ اسلام میں جہاد فرض ہے اور دوسری قوموں کو قتل کرنا مسلمانوں کے مذہب میں بہت ثواب کی بات ہے۔میرے خیال میں سرحدی لوگوں کو جہاد کے مسئلہ کی خبر بھی نہیں تھی۔یہ تو پادری صاحبوں نے یاد دلایا۔میرے پاس اس خیال کی تائید میں دلیل یہ ہے کہ جب تک پادری صاحبوں کی طرف سے ایسے اخبار اور رسالے اور کتابیں سرحدی ملکوں میں شائع نہیں ہوئے تھے اُس وقت تک ایسی