انوارالعلوم (جلد 23) — Page 396
انوار العلوم جلد 23 ہو جایا کرتا ہے“۔396 344 " مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ پھر فرماتے ہیں:۔”یہی اسباب تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں مشرکوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے عالموں کو نہ محض حق کے قبول کرنے سے محروم رکھا بلکہ سخت عداوت پر آمادہ کر دیا۔لہذا وہ اس فکر میں لگ گئے کہ کسی طرح اسلام کو صفحہ دُنیا سے مٹا دیں اور چونکہ مسلمان اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تھوڑے تھے اس لئے اُن کے مخالفوں نے بباعث اُس تکبر کے جو فطرتاً ایسے فرقوں کے دل اور دماغ میں جاگزیں ہوتا ہے جو اپنے تئیں دولت میں، مال میں، کثرت جماعت میں، عزت میں، مرتبت میں دوسرے فرقہ سے برتر خیال کرتے ہیں۔اس وقت کے مسلمانوں یعنی صحابہ سے سخت دشمنی کا برتاؤ کیا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ آسمانی پوداز مین پر قائم ہو بلکہ وہ ان راستبازوں کے ہلاک کرنے کے لئے اپنے ناخنوں تک زور لگارہے تھے اور کوئی دقیقہ آزار رسانی کا اُٹھا نہیں رکھا تھا“۔345 پھر فرماتے ہیں:- انہوں نے دردناک طریقوں سے اکثر مسلمانوں کو ہلاک کیا اور ایک زمانہ دراز تک جو تیرہ برس کی مدت تھی، اُن کی طرف سے یہی کارروائی رہی اور نہایت بے رحمی کی طرز سے خدا کے وفادار بندے اور نوع انسان کے فخر ، اُن شریر درندوں کی تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور یتیم بچے اور عاجز اور مسکین عورتیں کو چوں اور گلیوں میں ذبح کئے گئے۔اس پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے قطعی طور پر یہ تاکید تھی کہ شر کا ہر گز مقابلہ نہ کرو“ 346 پھر لکھتے ہیں :- ہیں:-