انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 388

انوار العلوم جلد 23 388 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ میں مہدی سوڈانی کے دعوئی نے جو جنگ کی حالت پیدا کر دی تھی وہ انگریزوں کو بھولی نہیں تھی اور اس وجہ سے بھی کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ تھا کہ جب مہدی موعود آئے گا تو ہندوستان کے بادشاہوں سے جنگ کرے گا اور وہ اُس کے سامنے بیڑیوں میں جکڑے ہوئے پیش کئے جائیں گے اور اِسی طرح وہ مسیح موعود کے متعلق یہ خیال بھی کرتے تھے کہ مسیح موعود اہل کتاب سے جزیہ قبول نہیں کرے گا بلکہ صرف اسلام قبول کرے گا اور جو اسلام نہیں قبول کرے گا اُسے قتل کر دے گا۔مسلمانوں کے یہ عقائد اقتراب الساعة ، حجج الکرامہ مؤلفہ نواب صدیق حسن خان میں موجود ہیں۔اس لئے ضروری تھا کہ بانی سلسلہ احمدیہ ان عقائد کی تردید کرتے اور انگریزی گورنمنٹ کو یقین دلاتے کہ آپ کے خلاف مولویوں کی جو شکایات حکومت کو پہنچائی جاتی ہیں وہ غلط ہیں اور میرے نزدیک ایسی حکومت کی جس نے مذہبی آزادی دے رکھی ہو اور جو مذہب اسلام کے قبول کرنے سے نہ روکتی ہو، اطاعت کرنا ضروری ہے۔ایسی شکایات کا ذکر فرماتے ہوئے آپ اپنی کتاب ”انجام آتھم “ میں مولویوں کے متعلق لکھتے ہیں کہ :- بعض ان کے اپنی بدگوہری کی وجہ سے گورنمنٹ انگریزی میں جھوٹی شکائتیں میری نسبت لکھتے رہے اور اپنی عداوت باطنی کو چھپا کر مخبروں کے لباس میں نیش زنی کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔۔۔۔۔یہ نادان نہیں جانتے کہ کوئی بات زمین پر نہیں ہو سکتی جب تک کہ آسمان پر نہ ہو جائے اور گور نمنٹ انگریزی میں یہ کوشش کرنا کہ گویا میں مخفی طور پر گورنمنٹ کا بد خواہ ہوں یہ نہایت سفلہ پن کی عداوت ہے “۔336 نیز اپنی کتاب ”نور الحق“ مطبوعہ 1893ء میں پادریوں کا ذکر کرتے ہوئے خصوصاً پادری عماد الدین کا جس نے اپنی کتاب توزین الا قوال میں حکومت کو آپ کے خلاف اکسایا تھا۔لکھا:- ”اس میں ایک خالص افترا کے طور پر میرے بعض حالات لکھے ہیں اور بیان کیا ہے کہ یہ شخص ایک مفسد آدمی اور گورنمنٹ کا دشمن ہے