انوارالعلوم (جلد 23) — Page 386
انوار العلوم جلد 23 پھر لکھتے ہیں: 386 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ "سلطان (روم) ایک اسلامی بادشاہ لیکن امن عام و محسن انتظام کی نظر سے (مذہب سے قطع نظر ) برٹش گورنمنٹ بھی ہم مسلمانوں کے لئے کچھ کم فخر کا موجب نہیں ہے اور خاص کر گروہِ اہل حدیث کے لئے تو یہ سلطنت بلحاظ امن و آزادی اس وقت کی تمام اسلامی سلطنتوں (روم، ایران خراسان) سے بڑھ کر فخر کا محل ہے“۔331 اور لکھتے ہیں:۔اس امن و آزادی عام و حسن انتظام برٹش گورنمنٹ کی نظر سے اہل حدیث ہند اس سلطنت کو از بس غنیمت سمجھتے ہیں اور اس سلطنت کی رعایا ہونے کو اسلامی سلطنتوں کی رعایا ہونے سے بہتر جانتے ہیں اور جہاں کہیں وہ رہیں یا جائیں ( عرب میں، خواہ روم میں، خواہ اور کہیں) کسی اور ریاست کا محکوم ورعایا ہونا نہیں چاہتے “۔332 اسی طرح سر سیّد احمد خان نے بھی اپنی کتاب رسالہ ”اسباب بغاوتِ ہند “برٹش گورنمنٹ کی وفاداری کی تلقین کی ہے اور اس کے خلاف کھڑے ہونے کو ” بغاوت“ قرار دیا ہے اور حضرت سیّد احمد بریلوی رحمتہ اللہ علیہ اِس انگریزی آزاد عملداری کو اپنی عملداری خیال کرتے تھے کیونکہ اس میں حکومت برطانیہ نے پوری مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔مولانا محمد جعفر تھانیسری لکھتے ہیں:۔سید صاحب (حضرت سیّد احمد رائے بریلوی) کا سرکار انگریزی سے جہاد کرنے کا ہر گز ارادہ نہیں تھا اور وہ اس آزاد 66 عملداری کو اپنی ہی عملداری سمجھتے تھے “ 333