انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 385

انوار العلوم جلد 23 385 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ بنا دئے تھے۔جو زبر دستی مسلمان لڑکیوں کو چھین لے جاتے تھے ، جنہوں نے اذان کو مجرم قرار دے رکھا تھا، جن کی ساری حکومت میں تین چار مسلمان ملازم تھے ، جن کے حالات مظالم کو معلوم کر کے حضرت سید احمد بریلوی جیسے بے سر و سامان بزرگ جہاد کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔اپنے لڑکپن میں ان دل خراش واقعات کو سُننے اور دیکھنے والا شخص اگر انگریزی حکومت کو خدا کی رحمت نہ قرار دیتا تو کیا کہتا۔کیا کوئی عقلمند انسان ایسا ہو سکتا ہے جو ان حالات میں پلنے کے بعد انگریزی حکومت کے طرزِ عمل کی تعریف نہ کرتا اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے جو رائے گورنمنٹ برطانیہ کی وفاداری کے متعلق ظاہر کی ہے وہ ظاہر نہ کرتا۔ہم اس کی تائید میں معزز عدالت کے سامنے غیر احمدی عالموں اور لیڈروں کے چند اقوال پیش کرتے ہیں۔گور نمنٹ برطانیہ سے وفاداری کے متعلق مولوی محمد حسین صاحب غیر احمدی علماء اور لیڈروں کے اقوال بٹالوی جو سردارِ اہل حدیث کہلاتے ہیں۔اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ نمبر 10 جلد 6 صفحہ 287 میں لکھتے ہیں:۔مسلمان رعایا کو اپنے گورنمنٹ سے (خواہ وہ کسی مذہب یہودی عیسائی وغیرہ پر ہو اور اس کے امن و عہد میں وہ آزادی کے ساتھ شعائر مذہبی ادا کرتی ہو ) لڑنا یا اس سے لڑنے والوں کی جان ومال سے اعانت کرنا جائز نہیں ہے۔وَبِنَاءً عَلَیهِ اہل اسلام ہندوستان کے لئے گورنمنٹ انگریزی کی مخالفت و بغاوت حرام ہے“۔اور لکھتے ہیں:۔”مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی نے اصل معنے جہاد کے لحاظ سے بغاوت 1857ء کو شرعی جہاد نہیں سمجھا بلکہ اس کو بے ایمانی و عہد شکنی و فساد و عناد خیال کر کے اس میں شمولیت اور اس کی معاونت کو معصیت قرار دیا۔330