انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 383

انوار العلوم جلد 23 383 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ مذہبی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ایسے قوانین بنا دئے گئے جن کے نتیجہ میں رعایا کے باہمی تنازعات کا فیصلہ عدل و انصاف سے ہونے لگا۔ہندوؤں اور سکھوں کی مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں کے آگے حکومت حائل ہو گئی۔بالخصوص پنجابی مسلمانوں کو سکھوں کے اس جبر و استبداد سے اس طرح نجات مل گئی کہ گویاوہ ایک دہکتے ہوئے تنور سے یکدم باہر نکل آئے۔قرآن مجید کی واضح ہدایت ایک طرف دو مشرک قومیں (ہندو اور سکھ ) مسلمانوں کے خون کی پیاسی تھیں تو دوسری طرف ایک عیسائی حکومت تھی جس کے ساتھ تعاون یا عدم تعاون کا مسلمانوں کو فیصلہ کرنا تھا۔ان حالات میں مسلمانوں کے لئے قرآن مجید کی اس تعلیم پر عمل کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا کہ لَتَجِدَنَ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ اشْرَكُوا وَ لَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَوَدَّةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصری - 328 یقیناً یقینا تو دیکھے گا کہ مسلمانوں کے بدترین دشمن یہودی اور مشرک ہیں اور یقین یقینا تو دیکھے گا کہ دوستی اور محبت کے لحاظ سے سب سے زیادہ مسلمانوں کے قریب عیسائی کہلوانے والے ہیں۔اس واضح حکم میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ یہود یا ہنود اگر ایک طرف ہوں اور دوسری طرف عیسائی ہوں تو مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی دوستی اور مودۃ کا ہاتھ عیسائیوں کی طرف بڑھائیں۔چنانچہ عملاً مسلمانوں نے یہی کیا اور ہمیں یقین ہے کہ اگر یہ قرآنی تعلیم مشعل راہ نہ بھی ہوتی تو بھی مسلمانوں کا مفاد اسی میں تھا اور حالات کا اقتضاء یہی تھا کہ وہ ہندوؤں اور سکھوں کے مقابلہ میں انگریزوں کے ساتھ تعاون کرتے اور انگریزوں کی مذہبی رواداری سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہندوؤں کے تباہ کن منصوبوں سے محفوظ رہ کر پُر امن تبلیغی مساعی کے ذریعہ سے اپنی تعداد کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہتے۔بعد کے حالات کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انگریزی عملداری کے ابتداء میں مسلمانوں کی تعداد ہندو پاکستان میں ایک کروڑ کے تھی لیکن انگریزوں کے انخلاء 1947ء کے وقت مسلمانوں کی تعداد دس کروڑ تھی۔