انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 364

انوار العلوم جلد 23 364 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُن کو کافر قرار دینے کے باوجود اُن کے قیدیوں کو آزاد کر دیا، عورتوں کو آزاد کر دیا، بچوں کو آزاد کر دیا اور اُن کے سامان اُن کو واپس کر دیئے۔چنانچہ علامہ ابن تیمیہ اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب کوئی شخص کلمہ پڑھتا ہو تو اُس پر پر کفر کا فتویٰ لگنے کے باوجود اُسے اسلامی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔28 288 علماء کہتے ہیں کہ احمدی علماء کا ایک اور اعتراض اور اُس کا جواب جھوٹ بولتے ہیں۔اُن کے دل میں کچھ اور ہے اور ظاہر کچھ اور کرتے ہیں۔اندر سے یہ اسلام کے مخالف ہیں۔یہ مسئلہ بھی نیا نہیں۔یہ مسئلہ بھی اسلام میں زیر بحث آچکا ہے۔سب سے پہلا جواب تو اِس اعتراض کا یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے جنہوں نے ایک شخص کو باوجو د لا اله الا اللہ کہنے کے لڑائی میں قتل کر دیا تھا۔ناراض ہو کر کہا کہ أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَ قَالَهَا امْ لَا۔289 تُو نے اُس شخص کا دِل پھاڑ کر کیوں نہ دیکھا کہ آیا اُس نے دھوکا دینے کے لئے یہ کلمہ کہا تھا یا سچے دل سے۔دوسر ا جواب اِس کا یہ ہے کہ انسان تو انسان ہیں اللہ تعالیٰ نے بھی جو دلوں کے راز جاننے والا ہے جب منافقوں کو کافر کہا اور بتایا کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں اُن کے دلوں میں وہ بات نہیں جو وہ مُنہ سے کہتے ہیں تو بھی منافق لوگ اسلامی حقوق سے محروم نہیں کئے گئے۔اسلام کا یہ فتویٰ ہے کہ جب کوئی شخص ممنہ سے کہہ دے کہ میں مسلمان ہوں تو وہ اسلامی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔چنانچہ امام شافعی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ: ” ایک شخص کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رپورٹ پہنچی کہ یہ شخص دل سے مسلمان نہیں صرف ظاہر میں مسلمان ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ کیا یہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ تم ظاہر میں مسلمان ہوئے ہو اور اصل میں مسلمان نہیں ہو۔تمہاری غرض اسلام لانے سے صرف یہ ہے کہ تم