انوارالعلوم (جلد 23) — Page 31
---------- انوار العلوم جلد 23 31 اَعُوْذُبِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ احرار کو چیلنج بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ احرار کو چیلنج (محرره 3 اکتوبر 1952ء) ”آزاد“ مؤرخہ 19 ستمبر 1952ء میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ: ”مرزا بشیر الدین محمود نے ملک میں جاگیر داروں کے خلاف بڑھتی ہوئی مہم سے خوفزدہ ہو کر اپنی تمام زمین فروخت کرنا شروع کر دی ہے“۔”معلوم ہوا ہے کہ مرزا محمود سب سے پہلے سندھ میں اپنی ریاستوں کی زمین فروخت کرنا چاہتے ہیں“۔” تازہ اطلاعات سے پتہ چلا ہے کہ مرزا محمود سندھ کی اراضی کو پہلے اس لئے فروخت کرنا چاہتے ہیں کہ سندھ گور نمنٹ نے سندھ سے جاگیر داریاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔مرزا محمود کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اگر اُنہوں نے ایسے حالات سے پہلے اپنی زمین فروخت نہ کی تو وہ تمام اراضی ضبط کر لی جائے گی۔“ پھر لکھا ہے:- یہ اراضی تحریک جدید کے نام پر جمع شدہ چندہ سے خریدی گئی تھی لیکن کاغذات میں مرزا محمود نے اسے اپنی ذاتی ملکیت بنالیا۔