انوارالعلوم (جلد 23) — Page 350
انوار العلوم جلد 23 350 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ رہتا ہے اور وہ عالم جس کے پاس ایسے شخص کا معاملہ پیش کیا جائے اس کو چاہئے کہ کسی مسلمان پر جو کہ ایک دفعہ کلمہ پڑھ چکا ہے کفر کا فتویٰ لگانے میں جلدی نہ کرے لیکن کفار میں سے اگر کوئی شخص کلمہ پڑھے تو اس کے اسلام کا فتویٰ دے۔ہمیں تعجب ہے کہ اُنہوں نے اس کتاب کے حاشیہ پر چھپی ہوئی ایک کتاب سے حوالہ درج کر کے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ کا یہ مذہب تھا کہ جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے اس سے جو شخص معجزہ مانگے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ہمیں افسوس ہے کہ اس حوالہ کے پیش کرنے میں اُنہوں نے دیانت سے کام نہیں لیا کیونکہ یہ مذہب مصنف کتاب کا بیان کیا گیا ہے، امام ابو حنیفہ کا بیان نہیں کیا گیا اور پھر مصنف کتاب کے نزدیک بھی یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ اختلافی مسئلہ ہے۔اگر کوئی شخص اس غرض کے لئے سوال کرے کہ اگر وہ معجزہ نہ دکھا سکے گا تو اس کا جھوٹ ظاہر ہو جائے گا تو پھر وہ کافر نہیں ہوتا۔255 جس سے یہ احتمال نظر آتا ہے کہ اگر وہ معجزہ دکھا دے گا تو اس کی نبوت ثابت ہو جائے گی اس لئے اس کے کفر کا سوال ہی نہیں رہے گا۔اسی مصنف کتاب کا مذہب صفحہ 205 پر بیان کیا گیا ہے کہ إِذَا كَانَ فِی الْمَسْئَلَةِ وَجُوْهٌ تُوْجِبُ التَّكْفِيرَ وَوَجْهُ وَاحِدٌ يَمْنَعُ فَعَلَى الْمُفْتِى أَنْ يَّمِيْلَ إِلَى ذلِكَ الْوَجْمِ یعنی اگر کسی شخص کے کافر بنانے میں بہت سی وجوہ پائی جاتی ہوں لیکن ایک وجہ تکفیر سے روکتی ہو تو مفتی کا فرض ہے کہ وہ اس ایک وجہ کی طرف مائل ہو جو اُس کو کافر بنانے سے روکتی ہے اور اُن وجوہ کی طرف توجہ نہ کرے جو اُسے کا فربنانے کی تائید کرتی ہیں۔ہم نے جو یہ لکھا ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ" کا یہ مذہب ہے کہ جو چیز کسی کو اسلام میں داخل کرتی ہے وہی اُس کو اسلام میں قائم رکھتی ہے بلکہ اگر کوئی شخص شک کی وجہ سے انکار بھی کر دے تب بھی وہ اس کے ہوتے ہوئے اسلام سے نہیں نکلتا۔اس کی تشریح کسان الحکام میں جس سے جماعت اسلامی نے حوالہ لیا ہے یہ کی گئی ہے کہ :- قدوری کتاب کی شرح میں یہ لکھا ہے کہ اگر