انوارالعلوم (جلد 23) — Page 343
انوار العلوم جلد 23 343 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ جائے جس پر جماعتِ اسلامی نے اپنے دعوی کی بنیاد رکھی ہے تو پھر بھی اُن کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا کیونکہ جب کافر کہنے سے بھی انسان کافر نہیں بنتا بلکہ اسے صرف سزا ملتی ہے تو اس سے غیر احمدی علماء کے لئے راستہ نہیں کھلتا احمدیوں کے لئے راستہ کھل جاتا ہے۔غرض احمدیوں نے کافر نہیں کہا۔احمدیوں نے کافر کہنے والوں کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق اُن کے فعل کے مناسب حال جواب دیا ہے۔اگر ہمارا یہ دعویٰ غلط ہے تو یہ علماء اب کہہ دیں کہ کیا اُنہوں نے مرزا صاحب کے کافر کہنے سے پہلے آپ کو کافر کہا تھا یا نہیں یا کم سے کم آب کھڑے ہو کر کہہ دیں کہ جن علماء نے یہ فتویٰ دیا تھا انہوں نے جھوٹ بولا ہے مگر وہ کبھی ایسا نہیں کریں گے۔لفظ "کافر" کا مفہوم دوسرا جواب ہمارا یہ ہے کہ یہ علماء جب کفر کا فتویٰ دیتے ہیں تو اس سے مراد بالکل اور ہوتی ہے اور احمدیوں نے جب کافر کہا ہے تو اس سے مراد اُن کی وہ نہیں تھی جو کہ ان لوگوں کی ہوتی ہے۔احمدیوں کے نزدیک اسلام اور گفر دونوں نسبتی الفاظ ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے اسلام کا لفظ بھی مختلف معنوں میں استعمال کیا ہے اور کفر کا لفظ بھی مختلف معنوں میں استعمال کیا ہے۔اسی طرح حدیث میں بھی ایمان اور کفر کے الفاظ مختلف معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اسلام کی ایک یہ تعریف فرماتا ہے کہ قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَ لكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدُ خُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ - 241 اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔تو اُن سے کہہ دے کہ تم ایمان نہیں لائے ہاں تم یہ کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں۔ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ ایمان کا درجہ اسلام کے اُوپر ہو تا ہے اور خواہ انسان کی روحانیت اعلیٰ ہو، یا نہ ہو وہ کلمہ طیبہ پڑھ کر مسلمان ہو جاتا ہے اور یہی اسلام کی جامع مانع تعریف ہے اور اس درجے کے مسلمان کہلانے والے کے لئے یہ بحث فضول ہوتی ہے کہ اس کا ایمان کس حد تک پختہ ہے اور کس حد تک پختہ نہیں۔اسی طرح قرآن کریم میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يَايُّهَا الَّذِينَ