انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 342

انوار العلوم جلد 23 342 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے اور جو شخص مخالف اس مذہب کے کوئی اور الزام ہم پر لگاتا ہے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑ کر ہم پر افترا کرتا ہے اور قیامت میں ہمارا اُس پر یہ دعوی ہے کہ کب اُس نے ہمارا سینہ چاک کر کے دیکھا کہ ہم باوجود ہمارے اس قول کے دل سے اُن اقوال کے مخالف ہیں۔اَلَا اِنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ وَالْمُفْتِرِينَ“۔239 اس قسم کی بہت سی تحریریں کسی کو کافر کہنے والا خود کا فر ہو جاتا ہے شائع کی گئیں لیکن علمائے کرام کا دل نہ پھیجا اور وہ اپنے فتوؤں پر مصر رہے۔جب تو اتر اور تکرار کے ساتھ ان لوگوں نے اپنے کفر کے فتوے جاری رکھے تو پھر بائی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے خیال کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے ماتحت کہ جو شخص کسی کو کافر کہتا ہے وہ خود کا فر ہو جاتا ہے۔کفر کا فتویٰ لگانے والوں کو بھی کافر کہا جائے تا اُنہیں معلوم ہو کہ اس لفظ کے استعمال سے دُکھ پہنچتا ہے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ :- أَيَّمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ كَفَّرَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَإِنْ كَانَ كَافِرًا وَ إِلَّا كَانَ هُوَالْكَافِرُ“ 240 اس انکوائری میں مولانا مودودی صاحب نے یہ بات دیکھتے ہوئے کہ فتویٰ تو ہم پر ہی اُلٹ پڑا ہے اپنے جوابات میں یہ ظاہر کیا ہے کہ حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کافر کہنے والا کافر ہو جاتا ہے بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اُس کو کافر کہنے کی سزا ملتی ہے لیکن جس وقت انہوں نے یہ جواب دیا اُن کے ذہن میں غالباً یہ حدیث نہیں تھی جو ہم نے لکھی ہے۔انہوں نے ایک دوسری حدیث کے الفاظ سے جس میں یہ ذکر ہے کہ گفر دونوں میں سے ایک پر الٹ پڑتا ہے فائدہ اُٹھا کر یہ خیال کر لیا کہ اس جواب سے وہ اپنے فعل پر پردہ ڈال دیں گے لیکن جو حدیث ہم نے اوپر بیان کی ہے اس میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم صاف فرماتے ہیں کہ وہ شخص کافر ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ بھی حدیث لے لی