انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 317

انوار العلوم جلد 23 پھر فرماتے ہیں:- 317 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اگر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت نہ ہو تا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہرگز نہ پاتا کیونکہ آب بجز محمدی نبوت کے سب نبو تیں بند ہیں۔شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو “ 188 ہو“۔ختم نبوت پر ایمان ان حوالجات سے ظاہر ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ ختم نبوت پر پورا ایمان رکھتے تھے اور احمدی ہونے کی ایک شرط ہے ہرگز اس کا انکار نہیں کرتے تھے۔موجودہ امام جماعت احمدیہ کا عقیدہ اس سے ظاہر ہے کہ آپ نے اپنی خلافت کے شروع سے ختم نبوت پر ایمان لانے کو اپنی شرائط بیعت میں شامل کیا ہے اور آپ کی بیعت کے فقروں میں سے ایک فقرہ یہ ہے کہ ”میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین یقین کروں گا“۔اس بات کے بعد علماء کرام یہ تو حق رکھتے تھے کہ لوگوں سے یہ کہتے کہ احمدی یہی لکھتے اور کہتے ہیں کہ ہم رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں یہ عقیدہ نہیں یہ جھوٹ بول کے لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔مگر ان کا یہ حق نہیں تھا کہ وہ لوگوں سے یہ کہتے کہ احمدی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان کا اقرار نہیں کرتے۔علماء کرام کالوگوں کے سامنے یہ بات کہنا بتاتا ہے کہ وہ جھوٹ بول کر فساد پیدا کرنا چاہتے تھے اور اُن کی تقریروں کی غرض مذہبی نہیں تھی کیونکہ مذہب جھوٹ کی اجازت نہیں دیتا۔اُن کی اغراض محض پولیٹیکل تھیں اور وہ صرف اپنے مخالف کو زیر کرنا چاہتے تھے۔اس سے اُن کو کوئی غرض نہیں تھی کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے کہ جھوٹ ہے۔وہ انصاف کے مطابق ہے یا اس میں ظلم اور تعدی سے کام لیا گیا ہے۔