انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 312

انوار العلوم جلد 23 312 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ سے وہ سب کھول دیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جہانوں کے شفیع ہیں اس جہان میں دین کے اور اگلے جہان میں جنت کے۔ظاہر وباطن میں آپ کا ورد یہی تھا کہ اے خدا! میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ انہیں علم نہیں ہے۔آپ کے فیض سے دونوں دروازے کھل گئے اور دونوں جہانوں میں آپ کی دُعا مستجاب ہو گی۔آپ ان معنوں میں خاتم ہیں کہ فیض رسانی میں آپ کے برابر نہ کوئی پہلے ہوا نہ کوئی آئندہ ہو گا۔جس طرح جب کوئی استاد صنعت میں اپنا کمال دکھاتا ہے تو کیا تو یہ نہیں کہتا کہ اے اُستاد ! تجھ پر صنعت ختم ہے۔اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتو ہر قسم کے ختموں کو کھولنے کی وجہ سے خاتم ہے اور رُوح پھونکنے والوں میں تو خاتم ہے۔غرضیکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صدا یہی ہے کہ تمام راستے کھلے ہیں اور کوئی بند نہیں ہے۔حضرت مرزا مظہر جان جاناں رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:- کہ کوئی کمال براہ راست حاصل ہونے والی نبوت کے سوا ختم نہیں ہوا اور اللہ تعالیٰ جو تمام فیوض کا مبدا ہے اُس کے متعلق بخل 179" اور دریغ کا خیال کرنا نا ممکن ہے “۔حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی جو گیارھویں صدی ہجری کے شروع میں گزرے ہیں فرماتے ہیں:۔مالات نبوت امتیوں کو تبعیت اور وراثت کے طریق پر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ملنا آپ کی خاتمیت کے منافی نہیں ہے اور اس بات میں تو ہر گز شک نہ کر “ 180 خود احادیث سے بھی ان معنوں کی تصدیق ہوتی ہے۔چنانچہ شرح بخاری میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ میرے اور مسیح ابن مریم کے درمیان کوئی نبی نہیں علامہ عینی لکھتے ہیں کہ :- اس کے معنی یہ ہیں کہ میرے اور اُن کے درمیان کوئی شریعتِ مستقلہ والا نبی نہیں کیونکہ خود حدیثوں سے ثابت ہے کہ