انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 307

انوار العلوم جلد 23 307 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ علامہ زرقانی جو بارہویں صدی ہجری کے شروع میں گزرے ہیں شرح مواہب اللہ نیہ کی جلد 3 صفحہ 163 پر لکھتے ہیں کہ ختم کے معنی اعلیٰ درجے کے کمال کے ہوتے ہیں اور زینت کے ہوتے ہیں۔پس خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ انبیاء میں سے سب سے بہتر تھے۔جسمانی اور روحانی طور پر اسی طرح آپ انبیاء کے لئے حُسن کا موجب تھے جس طرح انسان کے لئے انگوٹھی حسن کا موجب ہوتی ہے۔شیعوں کی تفسیر مجمع البحرین میں لکھا ہے کہ تاء کی زبر کے ساتھ خاتم النبیین کا جو لفظ ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کے لئے زینت تھے۔168 تفسیر فتح البیان جلد 7 صفحہ 286 پر لکھا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کے لئے بطور انگوٹھی کے تھے جس سے وہ زینت حاصل کرتے تھے۔یہ لفظ ان معنوں میں صلحاء امت نے بھی استعمال کیا ہے۔چنانچہ حضرت سید عبد القادر جیلانی جو چھٹی صدی ہجری کے قریباً آخر میں گزرے ہیں لکھتے ہیں ”فَحِيْنَئِذٍ تَكُونُ وَارِثَ كُلَّ رَسُوْلٍ وَ نَبِي وَصِدِّيقِ وَ بِكَ تَخْتُمُ الْوِلَايَةُ"- 169 یعنی اے مجھ سے عقیدت رکھنے والے جب تو مخلوقات سے اُمیدیں چھوڑ دے گا اور اپنی خواہشات اور ارادے ترک کر دے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تجھے ایک نئی زندگی ملے گی اور نیا علم اور نیا قرب اور نئی عزت تجھے بخشی جائے گی اور تو وارث ہو جائے گا ہر رسول اور ہر نبی اور صدیق کا اور ولایت تجھ پر ختم ہو جائے گی۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ امت محمدیہ کے اعلیٰ لوگ تو الگ رہے اُن کے شاگرد بھی نبیوں، رسولوں اور صدیقوں کے وارث اور خاتم الولایت کے مقام پر پہنچ جائیں گے۔اگر حضرت سید عبد القادر جیلانی کے نزدیک خاتم کے معنی ختم کرنے والے کے ہوں تو لازماً اس حوالہ کے یہ معنی ہوں گے کہ حضرت سید عبد القادر جیلانی کے شاگردوں پر ولایت ختم ہو جائے گی اور مہدی اور مسیح اس شکل میں ظاہر ہوں گے کہ خدا کی ولایت اُنہیں حاصل نہ ہو گی۔چونکہ اِس حوالے کے یہ معنی بالبداہت باطل ہیں اس لئے یہ بھی باطل ہے کہ حضرت سید عبد القادر جیلانی نے خاتم کے معنی ختم کرنے والا “ کے لئے ہیں۔