انوارالعلوم (جلد 23) — Page 306
انوار العلوم جلد 23 306 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ امام عبد الوہاب شعرانی جو دسویں صدی ہجری میں گزرے ہیں فرماتے ہیں:۔یا درکھو کہ نبوت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کلی طور پر بند نہیں ہوئی صرف تشریعی نبوت آپ کے بعد بند ہوئی ہے۔پس رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول کہ نہ کوئی نبی ہے نہ کوئی رسول ہے، اس کے یہ معنے ہیں کہ میرے بعد کوئی نئی شریعت نہیں۔اور یہ قول آپ کا ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا ”اذَاهَلَکَ کسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَر فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ جِب کسری ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسری نہیں ہو گا اور جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہو گا۔حالانکہ اس قیصر کے بعد اور کئی قیصر ہوئے۔مطلب یہ تھا کہ اس شان کا کوئی قیصر نہیں ہو گا “۔166 شیعوں کے نزدیک بھی خاتم النبیین کے یہی معنی ہیں چنانچہ تفسیر صافی کے صفحہ 111 پر آیت خاتم النبیین کے ماتحت لکھا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے علَى أَنَا خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَ أَنْتَ يَا عَلِيُّ خَاتَمُ الْأَوْلِيَاء۔میں خاتم الانبیاء ہوں اور اے علی ! تُو خاتم الاولیاء ہے۔حالانکہ حضرت علی کے بعد اور کئی اولیاء ہوئے اور شیعوں کے نزدیک تو گیارہ امام بھی ہوئے۔اس کے صاف یہ معنی ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاتم الانبیاء کے معنی افضل الا نبیاء کے کئے ہیں اور بتایا ہے کہ میں افضل الا نبیاء ہوں اور تو افضل الاولیاء ہے۔اسی طرح حضرت علی کی ایک اور روایت ہے جس میں انہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے فیضان جاری رہنے کا ارشاد فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں وَرَسُوْلُكَ الْخَاتَمُ لِمَا سَبَقَ وَ الْفَاتِحَ لِمَا انْغَلَقَ“۔167 اے خدا تیر ار سول ایسا ہے کہ جو کمالات پہلے لوگوں کو حاصل ہوئے تھے اُن کے انتہائی درجہ کو پہنچا ہوا تھا اور جو کمالات پہلے لوگوں سے ہم کو نہیں ملے اُن کا دروازہ اس نے ہمارے لئے کھول دیا ہے۔