انوارالعلوم (جلد 23) — Page 305
انوار العلوم جلد 23 305 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ آپ کی اُمت سے باہر کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔یا ایسا نبی نہیں آسکتا جو نئی شریعت لائے۔ہم اس حوالے کی طرف خاص طور پر معزز عدالت کی توجہ اِس لئے مبذول کرا رہے ہیں کہ اس میں حضرت عیسی علیہ السلام (جو سابق نبی ہیں) کے واپس آنے کے لئے وجہ جواز نہیں نکالی گئی بلکہ خود امت محمدیہ میں سے غیر تشریعی اور امتی نبی کا پیدا ہونا بھی جائز قرار دیا گیا ہے اور خاص طور پر کہا گیا ہے کہ اگر ایسا ہو تو اس سے ختم نبوت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ہم نہایت ادب سے عرض کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے نزدیک آیت خاتم النبیین کا مفہوم سوائے اس کے کچھ نہیں ہے جو حضرت ملا علی قاری کی مندرجہ بالا تحریر میں بیان کیا گیا ہے۔اگر مجلس عمل کا یہ خیال درست ہے کہ لفظ خاتم النبیین کی یہ تاویل کرنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اور آپ کی اتباع اور پیروی میں غیر تشریعی نبی ہو سکتا ہے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے تو پھر حضرت مُلا علی قاری جیسے عظیم الشان بزرگ پر بھی اُن کو یہی فتویٰ لگانا پڑے گا۔لیکن وہ ایسا ہر گز نہیں کر سکتے کیونکہ حضرت مُلا علی قاری وہ بزرگ ہیں جن کو تمام اہل سنت خواہ وہ دیوبندی ہوں یا بریلوی اور تمام اہل حدیث جن میں مولانا داؤد غزنوی بھی شامل ہیں، واجب الاحترام بزرگ خیال کرتے ہیں۔165 حضرت ملا علی قاری بیک وقت امام فقہ بھی ہیں اور امام حدیث بھی۔ہم یہ بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ مندرجہ بالا حوالہ ہم نے صرف یہ ثابت کرنے کے لئے پیش کیا ہے کہ حضرت مُلا علی قاری کے نزدیک خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں: (الف) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے نہ ہونے والا نبی نہیں آسکتا۔(ب) اگر اُمت محمدیہ میں کوئی تابع نبی پید ا ہو تو خاتمیت کے منافی نہیں۔باقی رہا یہ سوال کہ آیا حضرت ملا علی قاری کے نزدیک ایسا کوئی امتی نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فی الواقع پیدا ہونے والا تھایا نہیں؟ تو اس کی یہاں فی بحث نہیں بلکہ بحث صرف یہ ہے کہ لفظ خاتم النبیین کے جو معنی جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے وہ نئے نہیں بلکہ گزشتہ علماء، فقہاء اور محد ثین یہی معنے بیان فرماتے رہے ہیں۔