انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 294

انوار العلوم جلد 23 294 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ باپ نہیں ہوں گے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے گانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا 131 یعنی خدا تعالیٰ عزیز و حکیم تھا، ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ اس اعلان پر قدر تالوگوں کے دلوں میں ایک شبہ پیدا ہونا تھا کہ مکہ میں تو سورۃ کوثر کے ذریعے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دُشمن تو اولاد نرینہ سے محروم رہیں گے مگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) محروم نہیں رہیں گے لیکن اب سالہا سال بعد مدینہ میں یہ اعلان کیا جاتا ہے که محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نہ اب کسی بالغ مرد کے باپ ہیں نہ آئندہ ہوں گے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ سورۃ کوثر والی پیشگوئی (نعوذ باللہ) جھوٹی نکلی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت مشکوک ہے ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولکن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّن یعنی ہمارے اس اعلان سے لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ یہ اعلان تو ( نَعُوذُ بِالله) محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے جھوٹا ہونے پر دلالت کرتا ہے لیکن اِس اس اعلان سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے ہے۔ باوجود اس اعلان کے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں رسول ہیں بلکہ خاتم النبیین ہیں یعنی نبیوں کی مہر ہیں۔ پچھلے نبیوں کے لئے بطور زینت کے ہیں اور آئندہ کوئی شخص نبوت کے مقام پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مہر اُس پر نہ لگی ہو۔ ایسا شخص آپ کا روحانی بیٹا ہو گا اور ایک طرف ایسے روحانی بیٹوں کے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اُمت میں پیدا ہونے سے اور دوسری طرف اکابر مکّہ کی اولاد کے مسلمان ہو جانے سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ سورہ کوثر میں جو کچھ بتایا گیا تھا وہ ٹھیک تھا۔ ابو جہل اور عاصی اور ولید کی اولاد ختم کی جائے گی اور وہ اولاد اپنے آپ کو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے منسوب کر دے گی اور آپ کی روحانی اولاد ہمیشہ جاری رہے گی اور قیامت تک ان میں ایسے مقام پر بھی لوگ فائز ہوتے رہیں گے جس مقام پر کوئی عورت کبھی فائز نہیں ہو سکتی۔ یعنی نبوت کا مقام جو صرف مَردوں کے لئے مخصوص ہے۔ پس سورۂ کوثر کو سورہ احزاب کے سامنے رکھ کر ان معنوں کے سوا اور کوئی معنی ہو ہی نہیں سکتے۔ اگر خاتم النبیین کی آیت کے یہ معنی کئے جائیں کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)