انوارالعلوم (جلد 23) — Page 292
انوار العلوم جلد 23 292 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اسی خیال اور فلسفہ کے مطابق وہ کس طرح حکم دے سکتا ہے۔قرآن کریم بالنص اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ آخری اور کامل شریعت نازل ہو سکتی ہے مگر اس خیال کی کہ کوئی نبی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد کسی قسم کے نبی کے بھی آنے کی اجازت نہ ہو اس نے متواتر تردید کی ہے اسے بالکل غلط قرار دیا ہے۔آیت خاتم النبیین کی تشریح آج کل کے علماء جس آیت سے مزعومہ عقیدہ ختم نبوت نکالتے ہیں۔خود وہ آیت س عقیدی کی تردید کرنے والی ہے۔اس آیت کے الفاظ یہ ہیں مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيْنَ 128 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم - میں سے کسی بالغ مرد کے باپ نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں۔کسی بالغ مرد کا باپ نہ ہونا، اِس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ وہ نبی نہیں ہے۔اگر قرآن کریم نے یہ دلیل پیش کی ہوتی کہ جو شخص کسی بالغ مرد کا باپ نہ ہو وہ نبی نہیں ہو سکتا یا قرآن سے پہلے بعض قوموں کا یہ عقیدہ ہو تا تو ہم کہتے کہ قرآن کریم میں اس عقیدہ کا استثناء بیان کیا گیا ہے یا اس عقیدہ کی تردید کی گئی ہے لیکن یہ تو کسی قوم کا مذہب نہیں کہ جو کسی مرد کا باپ نہ ہو وہ نبی نہیں ہو سکتا۔مسلمان اور عیسائی تو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی نبوت کے قائل ہیں اور یہودی ان کی بزرگی مانتے ہیں مگر یہ کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا کہ اُن کے ہاں اولاد تھی کیونکہ اُن کی تو شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔پس اس آیت کے معنی کیا ہوئے کہ محمد ستم میں سے کسی بالغ مرد کے باپ نہیں لیکن نبی ہیں لازما اس فقرہ کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔پھر یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ایک شخص جس کے متعلق لوگ غلطی سے یہ کہتے تھے کہ وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا متبنی ہے۔اس اظہار کے بعد کہ وہ متبنی نہیں اس امر کا لیا تعلق تھا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ذکر کیا جاتا۔اور پھر اس بات کا کیا تعلق تھا کہ آپ کی ختم نبوت کا ذکر کیا جاتا۔کیا اگر زید رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کو طلاق نہ دے دیتے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شادی نہ کرتے تو ختم نبوت کا مسئله مخفی رہ جاتا ؟ کیا اتنے اہم اور عظیم الشان مسائل یو نہی ضمنا بیان ہوا کرتے ہیں ؟