انوارالعلوم (جلد 23) — Page 291
انوار العلوم جلد 23 291 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ متوجہ ہوئے اور کہا کہ تم لوگ شرک کر کے بڑے ظلم میں مبتلا ہو۔پھر شرمندگی سے انہوں نے سر ڈال دیئے اور حضرت ابراہیم سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کو معلوم ہی ہے کہ یہ باتیں نہیں کر سکتے۔اس پر حضرت ابراہیمؑ نے کہا کہ کیا تم اللہ کے سوا اُن کی عبادت کرتے ہو جو نہ نفع پہنچاتے ہیں اور نہ ضرر پہنچاتے ہیں؟ پس حضرت ابراہیم کے وقت میں بھی تو خدا کے بولنے اور نہ بولنے کا جھگڑا ہوا تھا۔حضرت ابراہیم کابُت پرستوں پر یہی الزام تھا کہ میرا خدا بولتا ہے اور تمہارا خدا نہیں بولتا۔اگر کسی گزشتہ وقت میں خدا کا بولنا بھی اُس کی خدائی کو ثابت کر دیتا ہے تو پھر ہندوؤں کا یہ دعویٰ کہ ابتدائے عالم میں خدا نے وید نازل کئے اور پھر چپ ہو گیا درست ہونا چاہئے ! مگر یہ کس طرح ہو سکتا ہے جو خدا پہلے سنتا تھا اب بھی سنتا ہے۔جو پہلے دیکھتا تھا اب بھی دیکھتا ہے۔اسی طرح جو پہلے بولتا تھاوہ اب بھی ضرور بولتا ہے۔سوال نمبر 2: مسئله مختم نبوت دوسرا الزام یہ لگایا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدہ ختم نبوت کی ہتک کی ہے۔یہ الزام بھی ہی آئیڈیالوجی اور اسلامی آئیڈیالوجی کے خلاف اور خود خاتم النبیین کی آیت کے بھی خلاف ہے۔ہم بتا چکے ہیں کہ بیانِ قرآنِ کریم کے مطابق ختم نبوت کے ان معنوں کو متواتر مختلف قومیں پیش کرتی رہی ہیں کہ اُن کے نبی کے بعد اور کوئی نبی نہیں آئے گا۔حضرت یوسف علیہ السلام کے بعد بھی لوگوں نے کہا کہ یوسف علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی بعض لوگوں نے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور عیسی علیہ السلام کے بعد تو سارے عیسائی کہہ رہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔127 اب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔پس جس خیال اور فلسفہ کی قرآن کریم تردید کرتا ہے