انوارالعلوم (جلد 23) — Page 290
انوار العلوم جلد 23 290 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اس کے ہم معنے ایک اور آیت سورۃ اعراف میں بھی ہے۔وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الم يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا 124 کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ بت اُن سے کلام نہیں کرتا اور نہ انہیں کوئی یہ ہدایت بھجواتا ہے (اور یہ بھی کلام الہی کی ہی ایک شاخ ہے۔) اس پر بھی امام رازی فرماتے ہیں کہ "مَنْ لَا يَكُونُ مُتَكَلِّمًا وَ لَا هَادِيَا إِلَى السَّبِيْلِ لَمْ يَكُن الها“۔125 جو ہستی بولتی نہیں اور سچا راستہ نہیں دکھاتی وہ خدا نہیں ہو سکتی۔ہمارا خدا یقیناً بولنے والا خدا ہے اور سامری کے بت جیسا نہیں ہے کہ اپنے سے پیار کرنے والے کو جواب بھی نہ دے۔ہم اس عقیدہ میں خدا کے سابق نبیوں کے عقیدہ کے مطابق ہیں۔ہم اس عقیدہ میں قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقیدہ کے مطابق ہیں۔ہم اس عقیدہ میں اُمتِ اسلامیہ کے روحانی پیشواؤں کے ہم عقیدہ ہیں۔ہم اس عقیدہ میں خدائے واحد و قہار کی عزت کے قائم کرنے والے ہیں۔اگر اسلام کی آئیڈیالوجی (IDEOLOGY) کو قائم کرنے، اگر بتوں پر خدا کی برتری ثابت کرنے کے نتیجہ میں ہم قابل دار ہیں، ہم کشتنی و سوختنی ہیں تو ہم کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ہماری گردنیں حاضر ہیں۔یہ علماء جو چاہیں ہم سے سلوک کریں۔ہم اس عقیدہ کو کبھی نہیں چھوڑ سکتے۔ہمارا تو کل خدا پر ہے اور وہی ہمارا حافظ و ناصر ہے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی یہی سوال اُٹھایا گیا تھا کہ خدا اور غیر خدا میں کیا فرق ہے؟ اور حضرت ابراہیمؑ نے مشرکوں سے کہا تھا کہ بن فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا فَسْتَلُوهُمْ اِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ - فَرَجَعُوا إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَقَالُوا إِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظَّلِمُونَ ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُءُوسِهِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلَاء يَنْطِقُونَ - قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكُم شَيْئًا وَ لَا يَضُرُّكُم - 126 عجب حضرت ابراہیم نے چند بُت توڑ دیئے وہ بت حضرت ابراہیم کے خاندان کے ہی ملکیت تھے ) اور لوگ اُن کے پاس آئے اور کہا کہ کیا آپ نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں! کسی نے تو یہ کام کیا ہی ہے۔یہ ان میں سے بڑا بت ہے اس سے اور دوسروں سے پوچھو، اگر بت بولتے ہیں کہ انہیں کس نے توڑا ہے ؟ اس پر وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف