انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 255

انوار العلوم جلد 23 255 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ تصدیق قرآن اور حدیث سے ہوتی ہے یہ لازمی بات تھی کہ حضرت مرزا صاحب کے دعوے کی بھی مخالفت ہوتی اور علماء آپ کے خلاف کھڑے ہو جاتے لیکن دیکھنے والی بات یہ نہیں کہ علماء ان کے خلاف کھڑے ہیں دیکھنے والی بات صرف یہ ہے کہ :۔(1) کیا مسلمان کبھی بگڑ سکتے ہیں یا نہیں؟ (2) کیا علماء کبھی بگڑ سکتے ہیں یا نہیں؟ (3) کیا مسلمانوں کے بگڑنے کی کوئی خبر قرآن نے دی ہے یا نہیں؟ (4) کیا علماء کے بگڑنے کی کوئی خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے یا نہیں؟ (5) کیا اسلام سے غافل ہو جانے اور اس کی تعلیم کو چھوڑ دینے کی کوئی خبر قرآن اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے یا نہیں ؟ اگر یہ خبریں قرآن اور حدیث سے ثابت ہیں تو پھر حضرت مرزا صاحب یا اور کسی گزشته بزرگ کی مخالفت اسلامی اصول سے جائز نہیں ہو سکتی اور نہ یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ اسلام نے ایسی تحریکوں کو بزور منع کرنے کا حکم دیا ہے۔ہم یہ قطعی طور پر ثابت کر چکے ہیں کہ قرآن اور حدیث کے مطابق مسلمانوں کے لئے مختلف زمانوں میں بگڑنا ضروری تھا اور اس حد تک بگڑ نا ضروری تھا کہ وہ اسلام اور قرآن کی تعلیم سے بالکل غافل ہو جائیں۔اور یہ بھی ضروری تھا کہ اس زمانے کی اصلاح کے لئے خدا کی طرف سے کوئی شخص کھڑا کیا جائے۔اِن دونوں صورتوں کی موجودگی میں کوئی انسان یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ اکثریت اُس شخص کے خلاف نہیں ہو گی جو اصلاح کے لئے کھڑا کیا جائے گا۔اگر اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ اکثریت اپنے مذہب کو زور سے منوالے اور اگر اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ اکثریت اپنے مخالف کو مٹانے کا اختیار رکھتی ہے اور وہ اس بات کی مجاز ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اسلام ایک ہی ممنہ سے تو یہ کہتا ہے کہ مسلمان بگڑیں گے اور اُن کی اصلاح کے لئے خدا کی طرف سے آدمی آئیں گے اور اُسی منہ سے وہ یہ کہتا ہے کہ اکثریت کو اختیار ہے کہ وہ ایسی اقلیت کو کچل ڈالے اور اس کو تباہ کر دے۔گو یا خدا تعالیٰ خود اپنے بنائے ہوئے گھر کے گرانے کا سامان کرتا ہے۔آخر وہ کونسی