انوارالعلوم (جلد 23) — Page 247
انوار العلوم جلد 23 247 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اس طرح کھول کھول کر بیان کئے گئے ہیں اور اُن کی حکمت اس طرح واضح کی گئی ہے کہ کئی دفعہ کفار بھی ان حکمتوں کو سُن کر دل میں خواہش کرنے لگتے ہیں کہ کاش ! وہ بھی مسلمان ہوتے اور اُس شریعت پر عمل کرنے والے ہوتے جو انسانوں کے لئے رحمت و برکت اور ترقی کا موجب ہے نہ کہ جبر اور سختی کا موجب۔غرض اسلام نے پہلی دفعہ مذہب کی بنیاد عقل اور محبت پر رکھی۔قرآن کے بعد انسان خدا کو ایک غضب کا دیوتا نہیں سمجھتا بلکہ وہ اُس کو ایک رُوحانی باپ اور رُوحانی ماں کے طور پر سمجھتا ہے جو اُس کے فائدے کے لئے اور اُس کے آرام کے لئے اور اُس کی ترقیات کے لئے اس کو ایسی نصیحتیں دیتا ہے کہ جن پر چل کر وہ سکھ اور آرام دیکھ سکتا ہے۔اس کی تشریح رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ ایک جنگ میں ایک کافر عورت جس کا بچہ کھو گیا تھا جب وہ مل گیا تو وہ دنیا و مافیہا سے غافل ہو کر اُسے پیار کرنے لگ گئی۔آپ نے صحابہ مخاطب کر کے فرمایا تم اس عورت کو دیکھتے ہو کہ یہ کتنی خوش ہے، کیونکہ اس کا بچہ اسے مل گیا ہے۔اسی طرح جب خدا کا کوئی بندہ ہدایت پا کر اُس کی طرف کو ٹتا ہے تو وہ اس ماں سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس نے اپنے کھوئے ہوئے بچے کو پالیا ہو۔14 44 کو اور اسی مضمون کی طرف قرآن کریم نے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے قل إن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ 45 تُو کہہ دے کہ اے لوگو! اگر تمہارے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت ہے تو تم میری شریعت پر عمل کرو کیونکہ یہی شریعت سچی محبت پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔تم اگر اس شریعت پر عمل کرو گے تو وہ تمہاری محبت کو اتنا بڑھا دے گی کہ اُس کے نتیجہ میں خدا بھی تم سے محبت کرنے لگے گا اور تم محب سے محبوب بن جاؤ گے۔افسوس دُنیا نے اس پر حکمت تعلیم کی قدر نہ کی۔مسلمان علماء میں سے غزالی نے پردہ اُٹھا کر ایک جھلک اُس کی دیکھی۔شاہ ولی اللہ صاحب نے اس سے زیادہ اس کی جلوت کا معائنہ کیا۔اور احمدیت نے اس خوبی کو ایسے کامل طور پر واضح کیا کہ دُنیا کے دلوں کی پھر ایک دفعہ یہ حالت ہو گئی کہ رُبمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ _ 46