انوارالعلوم (جلد 23) — Page 246
انوار العلوم جلد 23 246 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ کرتا ہر حکم کی حکمت نہیں بیان کی جاتی تھی۔ اس وجہ سے انسان اطاعت تو کرتا تھا مگر خدا تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں پیدا نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ وہ اپنے آپ کو ایک غلام محسوس رتا تھا۔ وہ یہ نہیں سمجھتا تھا کہ اُس کا باپ یا اُس کی ماں اُس کے فائدہ کے لئے اور اُس کو نفع پہنچانے اور ترقی دینے کے لئے اُس کی خدمت کر رہے ہیں بلکہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ ایک جابر آقا اُس پر اپنی حکومت جتانے کے لئے اُسے اندھا دھند حکم دے رہا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے اس اصول کو پیش کیا کہ خدا تعالیٰ بھی بلاوجہ کوئی حکم نہیں دیتا اور ہر حکم کی کوئی ایسی وجہ ہوتی ہے جس میں خود انسان کا فائدہ مضمر ہوتا ہے اور وہ اس کی ترقی کو مد نظر رکھ کر دیا جاتا ہے۔ پس گو اسلام سے پہلے بھی بعض مذاہب نے کہا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق محبت کی بناء پر ہونا چاہئے لیکن انہوں نے محبت پیدا کرنے کے لئے سمجھ میں نہ آنے والے صرف چند احسانات گنا دینے پر بس کیا ہے۔ محبت پیدا کرنے کے حقیقی ذرائع مہیا نہیں کئے۔ صرف اسلام ہی ہے جس سے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو حکم دیتا ہے انسان کے فائدہ کے لئے دیتا ہے اور کوئی حکم ایسا نہیں دیتا جس میں انسان کے لئے مضرت ہو۔ وہ فرماتا ہے طہ ۔ مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشقى ۔ 41 ہم نے تجھ پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ تو شریعت کے احکام کے نیچے دب جائے بلکہ اس لئے نازل کیا ہے کہ دِلوں کے وساوس دُور ہو جائیں اور اُن کے شبہات کا ازالہ ہو جائے اور شریعت کی حکمتیں اُن پر ظاہر ہو جائیں۔ یہاں تک کہ قرآن کریم ماننے والوں کے لئے رحمت کا موجب ہو جائے۔ تکلیف، دُکھ یا دباؤ کا موجب نہ بنے۔ چنانچہ فرماتا ہے وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ 42 اور ہم قرآن مجید کی وہ تعلیم بھی نازل کرتے ہیں جو دلوں اور روحوں کی بیماریوں کے لئے شفاء ہے اور شبہات کو دور کرتی ہے اور اسی طرح نہ صرف مسلمانوں کے لئے یا موجودہ زمانے کے لوگوں کے لئے بلکہ تمام انسانوں اور تمام زمانوں کے لئے رحمت اور فضل ہے۔ قرآن کریم کی یہ خوبی ایسی ظاہر ہے کہ آخر قرآن کریم نے یہ دعویٰ بھی کر دیا ہے کہ تِلْكَ ايْتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْآنٍ مُّبِينٍ - رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِینَ ۔ 43 اس کتاب میں شریعت کے احکام بیان کئے گئے ہیں بلکہ احکام