انوارالعلوم (جلد 23) — Page 242
انوار العلوم جلد 23 242 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اس آیت سے ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل اپنے زمانے میں نبوت کے اجراء کو روکنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔حتی کہ یوسف علیہ السلام بھی جو نہ کسی سلسلے کے بانی تھے نہ کسی سلسلہ کے خاتم، نبوت کے روکنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔اسی طرح قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی لوگوں کا یہ خیال ہو گیا تھا کہ اب کوئی رسول نہیں آئے گا۔چنانچہ سورہ جن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُن جنوں نے جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی سُننے کے لئے آئے تھے ( ہمارے نزدیک وہ نصیبین کے یہودی تھے اور جن کا لفظ غیر قوموں کے لئے اور باغی قوموں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔) واپس جا کر اپنی قوم سے کہا کہ اَنَّهُمْ ظَنُّوا كَمَا ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ يَبْعَثَ اللهُ اَحَدًا 32 کہ جس ملک سے ہم آئے ہیں وہ لوگ بھی تمہاری طرح یہ یقین رکھتے تھے کہ خدا تعالیٰ آئندہ کسی کو نبی بنا کر نہیں بھیجے گا۔چونکہ سورہ احقاف سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ موسی پر ایمان لانے والے لوگ تھے۔33 پس اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ حضرت موسیٰ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔حضرت مسیح کے نزول کے بعد عیسائی لوگوں کا بھی یہی عقیدہ ہو گیا کہ گو عیسی علیہ السلام دوبارہ آئیں گے لیکن آئندہ کوئی اور نبی مبعوث نہیں ہو گا۔34 ان دونوں نظریوں کو مقابل میں رکھ کر یہ نتائج نکلتے ہیں کہ اسلام کے نزدیک تو تمام بنی نوع انسان روحانی ترقی اور تقرب الہی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر تا رہے گا کہ انسان کو قرب الہی کے اعلیٰ درجے کے مقامات حاصل ہوتے رہیں لیکن اس کے مقابل پر باقی دنیا اس نظریہ کی قائل رہی ہے کہ خدا تعالیٰ ساری دُنیا کا خدا نہیں بلکہ وہ مخصوص قوموں کا خدا ہے۔گویا اُن کے نظریہ میں خدا تعالیٰ کی حیثیت ایک بت کی حیثیت تھی جسے ہر ایک قوم نے اپنے لئے خدا ٹھہرالیا تھا اور پھر یا تو وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے قرب الہی کے حصول کے لئے کوئی آسمانی ذریعہ کبھی پیدا ہی نہیں کیا اور یا یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ذریعہ پیدا تو کیا مگر صرف انہی کی قوم کے لئے پیدا کیا۔اور پھر بعض لوگ اس غلطی میں مبتلا تھے کہ خدا تعالیٰ نے