انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 237

انوار العلوم جلد 23 237 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اپنے نفس کو مہذب بنائیں اور قرب الہی حاصل کریں۔دوسری جگہ اس کی تشریح یوں فرمائی ہے کہ صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً وَ نَحْنُ لَه عبدُونَ 11 یعنی اللہ تعالیٰ کے رنگ کو اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ سے بہتر رنگ کون دے سکتا ہے۔حدیث میں اس رنگ کی تشریح یوں آئی ہے خَلَقَ اللَّهُ أَدَمَ عَلَى صُورَتِهِ 12 اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایسی شکل میں پیدا کیا ہے کہ الہی صفات کو ظاہر کر سکے۔بائبل میں ہے کہ ”خدا تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا“۔13 پھر اس مقصد کے پورا کرنے کا طریقہ بیان کرتا ہے کہ وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً 14 اور یاد کرو جب کہ تمہارے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں دُنیا میں اپنی صفات کو ظاہر کرنے والا ایک وجود پیدا کرنا چاہتا ہوں۔گویا وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إلا لِيَعْبُدُونِ میں جو غرض انسان کی پیدائش کی بتائی گئی تھی اس آیت میں اُس غرض کے پورا کرنے کا اعلان کیا گیا۔پھر انسان کو اس غرض کے پورا کرنے کے لئے چننے کی وجہ یہ بتائی کہ إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا 151 یعنی شریعت کا حامل انسان کے سوا اور کوئی وجود مخلوقات میں سے نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اُس کے اندر اپنے ارادہ سے اپنے نفس پر ظلم کرنے اور اسے مجبور کر کے کام لینے اور عواقب کو بھلا کر کام کرنے کی طاقت رکھی گئی ہے۔امانت کا لفظ جو اس جگہ آیا ہے اس کی تشریح ایک دوسری آیت سے ہوتی ہے۔إنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا 10 یعنی اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم حکومت کی امانت اُن لوگوں کے سپر د کرو جو اس کے اہل ہیں۔ایک اور آیت میں انسان کی اس طاقت کا اظہار ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔اِنَّا هَدَيْنَهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرَا وَ إِمَا كَفُورًا 17 هم نے انسان میں یہ مادہ پیدا کیا ہے کہ وہ چاہے تو شکر گزار بندہ بن جائے اور چاہے تو نافرمان بن جائے۔یعنی اس پر جبر نہیں کیا صرف اسے مقدرت بخشی ہے تاکہ وہ انعام کا مستحق۔