انوارالعلوم (جلد 23) — Page 236
انوار العلوم جلد 23 236 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اُس نے کھول دیئے۔یہ وہ اسلامی آئیڈیالوجی ہے جسے میں تمہید کے طور پر بیان کرنا چاہتا ہوں۔کیونکہ اسی پس منظر میں یہ امر سمجھ میں آسکتا ہے کہ آیا احمدیت نے اسلام میں کوئی نئی بات نکالی ہے یا اُس آئیڈیالوجی کی تشریح کی ہے۔اب میں اوپر کے مختصر بیان کی تصدیق میں قرآن کریم اور احادیث اور اقوالِ اولیاء و صلحاء بیان کر کے کسی قدر تفصیل سے اس مضمون کو بیان کرتاہوں۔مذکورہ بالا مختصر بیان کی تصدیق قرآن مجید سے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے له وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لِعِبِينَ - 1 یعنی زمین و آسمان بلا وجہ نہیں پیدا کئے گئے بلکہ اُن کی پیدائش میں حکمت تھی اور وہ اعلیٰ درجہ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے پیدا کئے گئے تھے۔پھر فرماتا ہے اَنَّ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا آسمان اور زمین یقیناً پہلے بند تھے پھر ہم نے اُن کو کھول دیا۔اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ تمام عالم پہلے ایک واحد شکل میں تھا پھر اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے مختلف وجود بنائے گئے۔جیسا م ہیئت اور علم تخلیق ارض سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا بننے سے پہلے ہیولائی حالت میں ہوتی ہے، پھر وہ پہلے تو زیادہ گھنی ہوتی جاتی ہے اور پھر بعض دفعہ اندرونی تغیرات سے متاثر ہو کر وہ جھٹکا کھاتی ہے اور اس کے کچھ حصے الگ ہو کر ایک نظامِ شمسی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔مگر دوسرے معنے اس کے یہ بھی ہیں کہ دنیا بغیر ہدایت اور رہنمائی کے ہوتی ہے پھر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے اپنے کلام کے نزول کا راستہ کھول دیتا ہے اور تاریکیوں میں سے نکل کر مخلوق روشنی کی طرف آجاتی ہے۔پھر انسان کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَكُمْ عَبَثًا۔2 کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تم کو بغیر کسی مقصد اور بغیر کسی مدعا کے پیدا کیا تھا۔پھر اس اشارہ سے وضاحت کی طرف رجوع کرتے ہوئے فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔10 ہم نے تمام بڑے لوگوں اور عوام الناس کو