انوارالعلوم (جلد 23) — Page 235
انوار العلوم جلد 23 235 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ کر دیتے ہیں۔اس کے علاوہ تفصیلی راہنمائی کے لئے نبوت کا مقام جاری کیا جس کے ذریعہ سے وہ شریعتیں اور قانون ملتے ہیں یا شریعت اور قانون کے راز معلوم ہوتے ہیں جو کسی مخصوص زمانے کے لئے ضروری ہوں۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے کہ ایما يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ يَقُضُونَ عَلَيْكُمُ ايَتِي، فَمَنِ اتَّقَى وَ أَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔2 اگر تمہاری طرف تم میں سے ہی رسول آئیں جو تم کو میرے نشانات بتائیں تو جو شخص تقویٰ اور اصلاح سے کام لے گا اُسے نہ آئندہ کا خوف لاحق ہو گا نہ ماضی کا غم۔قرآن کریم یہ چار ذرائع انسان کی تکمیل کے لئے بتاتا ہے جن میں سے دو طبعی ہیں اور دو فوق الطبعیات۔اور غور کر کے دیکھا جائے تو دنیا کی ترقی انہیں چاروں ذریعوں سے وابستہ ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ہم نے یہ چار راستے تو انسان کے لئے کھولے ہیں لیکن اُن پر چلنے کے لئے اُسے مجبور نہیں کیا صرف اُسے قبول کرنے یا رڈ کرنے کی مقدرت دی ہے۔اور محبت الہی کے پیدا کرنے کے لئے شریعت کی بنیاد انسان کے فائدہ پر رکھی ہے جبر اور زور پر نہیں رکھی۔چونکہ انسانی فطرت اپنے کمال کے لئے تین سہاروں کی محتاج ہے ایک صحیح عمل پر اور ایک صحیح فکر پر اور ایک شوق ورغبت پر اس لئے صحیح عمل کے لئے اُس نے شریعت نازل کی۔صحیح فکر کے لئے تمیز اور معائنہ قدرت کے سامان پیدا کئے۔اور شوق اور رغبت کی تکمیل کے لئے الہام ووحی کا دروازہ کھولا۔مگر چونکہ شریعت کا مکمل ہو جانا انسانی دماغ کے مکمل ہونے پر موقوف تھا اِس لئے شریعت کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کے ساتھ مکمل کر دیا لیکن محبت الہی کی خواہش کمالِ ذہنی سے بڑھتی ہے۔اس لئے دوسرا راستہ الہام و رضا کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ پہلے سے بھی زیادہ کھول دیا۔اگر پہلے نبیوں کے ذریعہ سے ایک ملک اور قوم میں محدود لوگ اُس مرتبہ کو پاتے تھے تو آپ کے بعد آپ کے ذریعہ سے یہ فیض اور بھی بڑھ گیا۔جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رَسُوْلَكَ الْخَاتِمُ لِمَا سَبَقَ وَالْفَاتِحَ لِمَا انْغَلَقَ - یعنی اے خدا تیرارسول ایسا ہے کہ سابق انعامات کو اُس نے کمال تک پہنچا دیا اور وہ دروازے رحمت الہی کے جو پہلے بند تھے