انوارالعلوم (جلد 23) — Page 227
انوار العلوم جلد 23 کے برابر بھی زیادہ نہیں سمجھتا۔227 مشرقی افریقہ کے باشندوں کو دعوت اسلام پادریوں نے بادشاہ کے خلاف بھی آوازے کسنے شروع کئے کہ تو بھی مرتد ہو گیا ہے لیکن نجاشی نے کہا کہ میں تمہارے اس شور و شغب کی وجہ سے مرعوب نہیں ہو سکتا۔جب میرا باپ مر ا تھا تو میں چھوٹا بچہ تھا اور میری جگہ پر میر اچھا قائمقام مقرر کیا گیا تھا اور تم لوگوں نے اس کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ مجھ کو تخت سے محروم کر دو۔جب مجھے یہ بات معلوم ہوئی تو باوجود اس کے کہ میں چھوٹا تھا میں نے اپنا حق لینا چاہا اور نوجوان میرے ساتھ مل گئے اور میرے چچانے ڈر کر دستبرداری دے دی اور تخت میرے حوالے کر دیا۔تو میری بادشاہت تمہاری وجہ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے باوجود تمہاری مخالف کوششوں کے مجھے دی ہے۔کیا میں اب تم سے ڈر کر خدا کو چھوڑ دوں گا اور ظلم اور تعدی کروں گا؟ نہ تم نے یہ بادشاہت مجھے دی ہے نہ میں تمہاری مدد کا محتاج ہوں۔میں کسی صورت میں ظلم نہیں کر سکتا۔یہ لوگ آزادی سے میرے ملک میں رہیں گے اور کوئی ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔پس اے اہل افریقہ ! جن کی زبان سواحیلی ہے میں یہ ترجمہ آپ کے سامنے پیش کرنے میں ایک لذت اور سرور محسوس کرتا ہوں کیونکہ اس کتاب کے ابتدائی ایام میں اس کتاب کے ماننے والوں کو آپ کے بڑ ا عظم نے پناہ دی تھی اور ظلم و تعدی کرنے سے انکار کر دیا تھا اور انصاف اور عدل قائم کرنے کا بیڑہ اُٹھایا تھا۔آج قرآن کریم کی پاکیزہ تعلیم اُسی طرح مظلوم ہے جس طرح کسی زمانہ میں قرآن کریم کے ماننے والے مظلوم ہوا کرتے تھے۔آج اس قرآن کریم کو دُنیا میں لانے والا نبی فوت ہو چکا ہے لیکن اس کا روحانی وجود آج اس سے بھی زیادہ مظلوم ہے جتنا کہ آج سے قریباً چودہ سو سال پہلے وہ اپنی دنیوی زندگی میں مظلوم تھا۔اس پر جھوٹے الزام لگائے جاتے ہیں، اس کی لائی ہوئی تعلیم کو بگاڑ کر دُنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، اس کے ماننے والوں کو حقیر اور ذلیل سمجھا جاتا ہے لیکن خدا گواہ ہے کہ واقعہ یہ نہیں۔خدا کی نظروں میں سب سے زیادہ معزز وجود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے جن پر قرآن نازل ہوا تھا اور سب سے زیادہ سچی تعلیم وہ ہے جو اس کتاب یعنی قرآن کریم میں