انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 176

انوار العلوم جلد 23 176 تعلق باللہ اسی طرح فخر بھی وہی کرتا ہے جو سمجھتا ہے کہ میرے اندر ایسی خوبیاں ہیں جو دوسروں میں نہیں اور وہ اُن خوبیوں کو اپنا ذاتی وصف قرار دیتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کہتے ہیں کہ ہمیں جس قدر نعمتیں حاصل ہیں یہ ہم نے اپنے زورِ بازو سے حاصل کی ہیں۔پس فخر کے معنی یہ ہیں کہ انسان خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرے اور کہے کہ ان نعمتوں کا حصول میر اذاتی وصف ہے اور جو شخص بھی ایسا کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے حسن کا انکار کرتا ہے اور ایسے شخص سے اللہ تعالیٰ محبت نہیں کرتا۔(3) جس شخص کو اپنے کاموں میں حد سے گزر جانے کی عادت ہو اُس سے بھی اللہ تعالیٰ محبت نہیں کرتا۔فرماتا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ 73 حد سے گزر جانے والوں سے خدا محبت نہیں کرتا یا یوں کہو کہ جو لوگ حد سے گزر جانے والے ہوں وہ کبھی خدا تعالیٰ سے محبت نہیں کر سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ ایسا شخص بھی طبعی طور پر خدا تعالیٰ سے محبت نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اپنے حق کا مطالبہ کرنے میں حد سے بڑھا ہوا ہوتا ہے۔مثلاً کسی کو غصہ آگیا اور اُس نے دوسرے کو تھپڑ مار دیا۔اب یہ ایک غلطی ہے جس کی سزا اُسے ملنی چاہیے مگر یہ سزا اتنی ہی ہو سکتی ہے کہ ہم اسے بلائیں اور ڈانٹ دیں کہ تم نے فلاں کو تھپڑ کیوں مارا لیکن بعض طبیعتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جس شخص سے قصور سر زد ہوا ہو جب تک وہ اُس کا قیمہ نہ کر لیں اُن کی تسلی ہی نہیں ہوتی۔ہمارے پاس بھی مختلف کی رپورٹیں آتی رہتی ہیں اور ہم انہیں اُن کے قصور کے مطابق سزا دے دیتے ہیں۔بعض دفعہ کسی سے غلطی ہو تو اُسے مثلاً ڈانٹ دیا جاتا ہے یا معمولی جرمانہ یا مسجد میں بیٹھ کر ذکر الہی کرنے کی سزا دے دی جاتی ہے۔مگر جو اپنے کاموں میں حد کے اندر رہنے کے عادی نہ ہوں اُن کی اس سے تسلی ہی نہیں ہوتی وہ کہتے ہیں یہ بھی کیا سزا ہے کہ چار آنے جرمانہ کر دیا۔اُن کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ ہم اُس کے سر پر آرہ رکھ کر چلائیں۔پھر اُس کی ہڈیاں جلا کر اُنہیں سل پر پیسیں اور پھر کسی پاخانہ کے گڑھے میں اُس کی راکھ ڈال دیں اور پھر اُس پر ایک کتبہ لگا دیں جس میں اُس کو اور اُس کے باپ دادا کو گالیاں دی گئی ہوں اور پھر یہیں تک بس نہیں جب وہ اگلے جہان میں پہنچے تو وہاں بھی خدا اُس کو دوزخ میں